کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 425
جواب۔ کھڑے اونٹ کو بائیں ٹانگ باندھ کر سینہ پر چھرا لگا کر نحر کیا جاتا ہے۔ تین جگہ سے ذبح کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اونٹ کو ذبح کرنے کا مروّجہ طریقہ (تین جگہ سے ذبح کرنے کا) درست ہے ؟ سوال۔ اونٹ کو ذبح کرنے کا جو طریقہ رائج ہے کہ تین جگہ سے ذبح کرتے ہیں، کیا یہ درست ہے ؟ (سائل) (10مئی 2002ء) جواب۔اصلاً شرع میں اونٹ کے لیے نحرہے جب کہ گائے اور بکری وغیرہ کے لیے ذبح ہے۔ واضح رہے کہ اونٹ کو کھڑا کرکے قربان کیا جاتا ہے اس کا ایک پاؤں باندھ دیا جاتا ہے۔ پھر اس کے حلقوم میں زور سے نیزہ مارا جاتا ہے۔ جس سے خون کا ایک فوارہ نکل پڑتا ہے، پھر جب خاصا خون نکل جاتا ہے تب اونٹ زمین پر گر پڑتا ہے ۔ یہی مفہوم ہے (صَوَآفّ)کا۔ ابن عباس ، مجاہد، ضحاک وغیرہ نے اس کی یہی تشریح کی ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی منقول ہے۔ چنانچہ مسلم اور بخاری میں روایت ہے کہ ابن عمر نے ایک شخص کودیکھا جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر قربان کر رہا تھا اس پر انھوں نے فرمایا: (ابْعَثْہَا قِیَامًا مُقَیَّدَۃً سُنَّۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)[1] ”اس کے پاؤں باندھ کر کھڑا کر! یہ ہے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔‘‘ ”سنن ابی داؤد‘‘ میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر باقی تین پاؤں پر اسے کھڑا کرتے تھے، پھراس کو نحر کرتے تھے۔ اس مفہوم کی طرف خود قرآن بھی اشارہ کررہا ہے۔ (فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُہَا) (الحج:36) ’’جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں۔‘‘ اس طرح اس صورت میں کہا جائے گا جب کہ جانور کھڑا ہو اور پھر زمین پر گرے، ورنہ لٹا کر قربانی کرنے کی صورت میں تو پیٹھ ویسے ہی ٹکی ہوئی ہوتی ہے۔[2] مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:فتح الباری(9/640۔641) البتہ اونٹ کو تین جگہ سے ذبح کرنے کا رائج طریقہ سنت سے ثابت نہیں۔ کیا عند الذبائح جانور کو قبلے رُخ لٹانا ضروری ہے؟ سوال۔ کیا عند الذبائح جانور کو قبلے رُخ لٹانا ضروری ہے؟ (عبدالغنی عاصم۔ لسبیلا) (5مئی 2000ء) [1] ۔ المستدرک للحاکم،تَفْسِیرُ سُورَۃِ الْحَجِّ، رقم:3468