کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 424
ہے۔ سرکاری سکولوں کا مروّجہ نصابِ تعلیم ان اداروں میں پڑھایا جاتا ہے۔ ان پرائیویٹ سکولوں کے بانی حضرات کا دعویٰ ہے کہ ہم تعلیمی انقلاب برپا کررہے ہیں۔ فیس کی وصولی کے ساتھ ایسے ادارے زکوٰۃ ،صدقات اور قربانی کی کھالیں بھی مانگتے ہیں۔ جب کہ ان کے مقابلے میں دینی ادارے موجود ہیں۔ جہاں ، غریب ، نادار، یتیم، مسافر طلباء دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہ دینی ادارہ طلباء کے جملہ اخراجات رہائش، خوراک، کتابیں، لباس کا کفیل اور ذمہ دار ہوتا ہے۔ کیا ایسے تجارتی مراکز اور کاروباری اداروں پر زکوٰۃ صدقات اور قربانی کی کھالیں خرچ کی جا سکتی ہیں؟ بَیِّنُوْا تُوجرُوْا۔ (17/ اپریل 1998ء) جواب۔قربانی کی کھالوں اور زکوٰۃ و صدقات وغیرہ کے اصل حق دار تجارتی اور کاروباری اداروں کے بجائے افراد مستحقین ہیں۔ جن کی تصریح ’’سورۃ التوبہ‘‘ کی آیت نمبر60 میں ہے۔ تعلیمی ادارے اگر بلا معاوضہ ان کو مستحق طلبہ پر خرچ کرتے ہیں تو یہی مطلوب ہے اور ایسے اداروں اور مراکز کو قربانی کی کھالیں وغیرہ نہیں دینی چاہئیں جو محض تجارتی نقطہ نظر سے ان کوچلاتے ہیں۔ (ذبح کے آداب) چھری کے علاوہ کس کس چیز سے جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں؟ سوال۔ جانور تیز دھار چھری کے علاوہ کن اشیاء سے ذبح کیا جا سکتا ہے؟ (چھری یا چاقو نہ ہونے کی صورت میں) (ڈاکٹر حق نواز قریشی، راولپنڈی) (5 جولائی 2002ء) جواب۔تیز اور سفید پتھر سے بھی جانور ذبح ہو سکتا ہے اس کے بارے میں ’’سنن ابی داؤد‘‘ میں حدیث ہے۔ (بَابٌ فِی الذَّبِیحَۃِ بِالْمَرْوَۃِ ) بلکہ ہر وہ چیز جو تیز دھارے والی ہو اور اس سے خون بہہ جائے تو اس سے جانور ذبح ہو سکتاہے ۔ لیکن دانت اور ہڈی سے ذبح کرنا ممنوع ہے۔ ملاحظہ ہو :العون(3/61) کیا اپنے ہاتھ سے قربانی کرنا ضروری ہے؟ سوال۔ کیا اپنے ہاتھ سے قربانی کرنا ضروری ہے؟(ابوطاہر نذیر احمد، عبدالرشید۔کراچی) (23 فروری 2001ء) جواب۔مستحب تو یہی ہے کہ ذبح خود کرے، اگر ذبح کرنے کے لیے دوسرے کو اپنا نائب بنا دے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، البتہ ذبح کے وقت وہاں موجود رہے۔ اونٹ کو نحر کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ سوال۔ اونٹ کو نحر کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟بعض لوگ تین جگہ سے ذبح کرتے ہیں۔ (ولی اللہ رحمانی دوست پورہ کھڈیاں خاص ضلع قصور) (9 ستمبر1994ء) [1] ۔المستدرک للحاکم،تَفْسِیرُ سُورَۃِ الْحَجِّ ،رقم:ـ 3468،السنن الکبرٰی للبیہقی،بَابُ لَا یَبِیعُ مِنْ أُضْحِیَّتِہِ شَیْئًا، وَلَا یُعْطِی أَجْرَ الْجَازِرِ مِنْہَا،رقم:19233