کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 423
قربانی کی کھالوں سے لائبریری کی کتابیں خریدنا کیسا ہے؟ سوال۔ آج کل تقریباً ہر مسجد میں مقامی سطح پر چھوٹی چھوٹی لائبریری کا اہتمام ہوتاہے کیا قربانی کی کھالیں اس لائبریری پر خرچ ہو سکتی ہیں جو کہ عموماً مسجد میں ہی ہوتی ہے۔ (عبدالستار خطیب جامع مسجد اہل حدیث سمبلہ خورد) (10 جولائی1992ء) جواب۔قربانی کی کھالیں خالصتاً فقراء و مساکین کا استحقاق ہیں جب کہ لائبریری سے فائدہ اٹھانے والے بلاامتیاز اغنیاء و مساکین سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں اس لیے قربانی کی کھالیں لائبریری کی کتب پر صرف نہیں ہو سکتیں۔ کیا امام مسجد قربانی کی کھالوں سے کتابیں خرید سکتا ہے؟ سوال۔ ہمارے علاقے میں تقریباً 95 فیصد ائمہ و خطباء مساجد قربانی کی کھالیں لیتے ہیں۔ اور جو نہیں لیتے تو ان میں سے بعض ان سے اپنی دینی کتب خرید لیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ (عبدالستار خطیب جامع مسجد اہل حدیث سمبلہ خورد) (10 جولائی1992ء) جواب۔یہ بات تو واضح ہے کہ خطباء و ائمہ کے لیے قربانی کی کھالیں لینا ناجائز ہے اور اگر کوئی خطیب یا امام بلا استحقاق ان سے کتابیں خرید کرتا ہے تو یہ بھی ناجائز ہے۔ مسجد کو زکوٰۃ اور قربانی کی کھالیں لگ سکتی ہیں؟ سوال۔ کیا مسجد کو زکوٰۃ اور قربانی کی کھالیں لگ سکتی ہیں یا نہیں؟(سائل )(27جولائی 2001ء) جواب۔زکوٰۃ اور قربانی کی کھالوں کو مسجد پر نہیں لگانا چاہیے۔ اگرچہ بعض لوگ لفظ’’فی سبیل اللہ‘‘ کے عموم کی بناء پر جواز کے قائل ہیں لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد جہاد اور حج و عمرہ ہیں۔ ہمارے شیخ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ طویل بحث کے بعد فرماتے ہیں: کہ اس لیے ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد خاص ہے اور خاص بغیر دلیل کے مراد نہیں ہو سکتا۔ دلیل یا تو آیت ہے یا اتفاق مفسرین جیسا جہاد کے مراد ہونے پر اتفاق ہے یا حدیث یا تفسیر صحابہ رضی اللہ عنھم ہے جیسا حج و عمرہ ہونے پر ہے باقی کی بابت کوئی دلیل نہیں۔(فتاویٰ اہل حدیث: 2/495) قربانی کے چمڑے مسجد پر نہیں لگ سکتے کیونکہ ان کا حکم قربانی کے گوشت کا حکم ہے۔ ’’ترغیب وترہیب‘‘ میں ایک روایت ہے جس نے قربانی کا چمڑہ فروخت کیا اس کی قربانی نہیں۔‘‘ جس طرح گوشت فروخت کرکے اس کی قیمت مسجد میں نہیں لگ سکتی یہی حکم قربانی کے چمڑے کا ہے۔ قربانی کی کھالیں اسکولوں پر صرف ہو سکتی ہیں؟ سوال۔ بعض پرائیویٹ سکول اور تعلیمی ادارے جن میںزیر تعلیم طلباء سے فیس 50 روپے تا 15 روپے وصول کی جاتی [1] ۔ صحیح البخاری،رقم:1717، صحیح مسلم،بَابٌ فِی الصَّدَقَۃِ بِلُحُومِ الْہَدْیِ وَجُلُودِہَا وَجِلَالِہَا،رقم:1317