کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 419
قربانی کی کھال بیچ کر اس کی قیمت مساکین میں بانٹ دینا: سوال۔ قربانی کی کھال دینے والا بیچ کر مساکین کو رقم بانٹ سکتا ہے ؟(سائل) (10مئی 2002ء) جواب۔اصل یہ ہے کہ قربانی کی کھال ہی صدقہ کی جائے، خود فروخت نہ کی جائے۔ چنانچہ ’’الترغیب والترہیب‘‘ میں حدیث ہے: ( مَنْ بَاعَ جِلْدَ أُضْحِیَّتِہِ فَلَا أُضْحِیَّۃَ لَہُ)[1] ”جس نے قربانی کا چمڑا فروخت کیا اس کی قربانی نہیں۔‘‘ جیسے قربانی کا گوشت فروخت کرنا ناجائز ہے یہی حکم چمڑے کا بھی ہے۔ البتہ مستحقین کے لیے ہر قسم کے تصرف کا جواز ہے۔ اگر اتفاقاً صاحب قربانی نے قربانی کاچمڑا فروخت کردیا تو اس کی قیمت خود نہ کھائے بلکہ فقراء و مستحقین پر بانٹ دے یا رقم جماعتی بیت المال میں جمع کرادے۔ قربانی کے ایک حصے کی قیمت سے کھال وغیرہ منہا کرنا سوال۔ ہمارے ہاں قربانی کی گائے کسی سے خریدی جاتی ہے یا کوئی حصہ دار اسے پالتا رہتا ہے۔ وہ پالنے والا جو خود بھی حصہ دار ہوتا ہے، قربانی کے دوسرے حصہ داروں کے اتفاق سے سر اور چمڑا اپنے حصے کی قیمت میں شامل کرکے رکھتا ہے۔ یا سب حصے داروں کے اتفاق سے کسی خریدنے والے کے ہاتھوں خصوصاً کھال فروخت کی جاتی ہے۔ بہرحال سر اور کھال دونوں فروخت کرنے یا کسی حصے دار کے اسے رکھنے کے نتیجے میں دوسرے حصہ داروں کے حصص کی قیمت میں کمی آتی ہے۔ تو کیا یہ صورت گوشت اور کھال فروخت کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔، جس سے منع کیا گیا ہے ؟ یا یہ صورت جائز ہے ؟ بَیِّنُوْا تُوجرُوْا۔ (عبدالرحیم۔ بلتستان) (9 اگست 2002ء) جواب۔ اصلاً قربانی سے مراد وہ جانور ہے۔ جو عید کے دن اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کیا جاتا ہے اور وہ شئے ایک ہے اس میں شراکت نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے اہل علم کہتے ہیں کہ مختلف نیتوں کے ساتھ افراد اس میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ مثلاً بعض کی نیت محض حصولِ گوشت کی ہو اور دیگر کی نیت قربانی کی تو اس طرح قربانی نہیں ہوگی۔ شریعت نے سات کی شراکت کی جو سہولت دی ہے یہ صرف رب العزت کا احسان ہے یہ حکم اپنے محل پر بند رہے گا۔ دوسری طرف اس شخص کی نیت کے خلوص میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے اس قربانی کے ضائع ہونے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بنابریں سر اور کھال کی تخصیص نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ اس میں سب حصہ دار برابر ہیں۔اور کھال تو [1] ۔ الاعتصام: مولانا عبدالقادر عارف حصاری مرحوم نے ابتدائً بھینس کی قربانی کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا تھا لیکن بعد میں رجوع کرکے جواز کا فتویٰ دے دیا تھا۔ جو الاعتصام میں چھپا ہواموجود ہے۔ علاوہ ازیں صاحب ’’مرعاۃ‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی حفظہ اللہ نے بھی اس کے جواز سے انکار نہیں کیا ہے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ’’الاعتصام‘‘ 2-اکتوبر،1981ء (ص۔ی) [2] ۔ مؤطا امام مالک باب ما جاء فی صدقۃ البقرۃ،رقم:24