کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 418
جواب۔ بھینس کی قربانی میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ علمائے احناف جواز کے قائل ہیںاس بناء پر کہ بھینس گائے کی قسم ہے ۔ لیکن یہ بات معروف ہے کہ بھینس گائے سے علیحدہ نوع ہے۔ ان کا باہم بہت سارا فرق ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ اس بارے میں علامہ مناوی نے ’’کنوز الحقائق‘‘ میں ایک حدیث بھی بیان کی ہے لیکن وہ ثابت نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ بھینس بَھہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ (اونٹ گائے بکری بھیڑ) میں شامل نہیں جن کی قربانی کا حکم ہے۔ لہٰذا اس کی قربانی نہ کرنے میں احتیاط ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : فتاویٰ اہل حدیث:2/426۔427 (قربانی کی کھالوں کے مصارف ) کیا کھال ذاتی مصرف میں آسکتی ہے ؟ سوال۔ کھال کا مصرف کیا ہے ؟ ذاتی استعمال کے لیے کھال رکھ سکتا ہے ؟ا ور کیا قصائی کو اجرت میں کھال دی جاسکتی ہے۔(ابوطاہر نذیر احمد، عبدالرشید۔کراچی) (23 فروری 2001ء) جواب۔ ذبح کرنے والے قصاب کی مزدوری قربانی کے گوشت سے یا کھال کے ذریعے دینی جائز نہیں۔[1]البتہ اپنے استعمال یعنی مصلّٰی وغیرہ بنانے کے لیے رکھ سکتا ہے۔ قربانی دینے والا قربانی کی کھال کا جوتایا جائے نماز بنا سکتا ہے ؟ سوال۔ قربانی دینے والا قربانی کی کھال کا جوتایا جائے نماز بنا سکتا ہے ؟(سائل) (10 مئی 2002ء) جواب۔ بظاہر جواز ہے کیونکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے گوشت خود کھاتا اور دوسروں کو کھلاتا ہے۔ ’’منتقی الاخبار‘‘ میں قتادہ بن نعمان کی روایت میں ہے کہ:’’ قربانی کا گوشت جب تک چاہو خود کھاؤ اور صدقہ کرو اور ان کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ اور فروخت نہ کرو۔‘‘ قربانی کی کھال کسی مال دار دوست کو گوشت کی طرح بطورِ ہدیہ دی جا سکتی ہے ؟ سوال۔ قربانی کی کھال کسی مال دار دوست کو بطورِ ہدیہ دی جا سکتی ہے جیسے گوشت ہدیۃً دیا جاتا ہے؟(سائل) (10 مئی 2002ء) جواب۔ ہاں قربانی کی کھال کسی مال دار کو بطورِ ہدیہ دی جا سکتی ہے۔ قربانی کے گوشت اور چمڑے کا حکم ایک جیسا ہے۔ ابتداء میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا، تو صحابہ نے چمڑوں کی مشکیں بنانی بھی ترک کردی تھیں۔ اگر قربانی کا چمڑا گوشت کا حکم نہ رکھتا تو صحابہ رضی اللہ عنھم مشکیں بنانا ترک نہ کرتے۔(منتقی الاخبار ) [1] ۔ مشکوۃ باب اللعان، فصل اول : 3037، صحیح البخاری،بَابٌ: لِلْعَاہِرِ الحَجَرُ،رقم:6817