کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 409
نقل فرماتے ہیں کہ آدمی کی طرح جانوروں کو خصی کرنا درست نہیں۔ سوائے اس کے کہ اس سے گوشت کو بہتر بنانا یا اس کے ضرر سے محفوظ رہنا مقصود ہو۔ امام خطابی فرماتے ہیں: (وَفِی ہَذَا دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الْخَصِیَّ فِی الضَّحَایَا غَیْرُ مَکْرُوہٍ وَقَدْ کَرِہَہُ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ لِنَقْصِ الْعُضْوِ وَہَذَا النَّقْصُ لَیْسَ بِعَیْبٍ لِأَنَّ الْخِصَاء َ یَزِیدُ اللَّحْمَ طِیبًا وَیَنْفِی فِیہِ الزُّہُومَۃَ وَسُوء َ الرَّائِحَۃِ) [1] اصلاً مسئلہ ہذا سلف صالحین میں شدید ترین اختلافی مسائل میں سے ایک ہے۔ علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے ’’القول المحقق‘‘ میں اس مسئلہ پر بڑی تفصیلی اور ناقدانہ بحث فرمائی ہے۔ اور اخیر میں اس کا نچوڑ یوں بیان فرمایا ہے۔ کہ ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کا خصی کرنا جائز نہیں اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا خصی کرنا افضل ہے۔ اور عزیمت کا یہی تقاضا ہے۔ ہاں خصی کرنا جائز ہے اور اس کی اجازت ہے۔ [2] مسئلہ ہذا پر میرا ایک تفصیلی فتویٰ ’’الاعتصام ‘‘ میں پہلے شائع ہو چکا ہے۔ اس کی طرف رجوع بھی مفید ہے۔ خصی بکرے کی قربانی کا جواز سوال۔ خصی بکرے کی قربانی جائز ہے کہ نہیں؟ کیونکہ بعض حضرات کے نزدیک خصی پن ایک نقص ہے۔ (آپ کا بھائی سید طاہر عباس شاہ جوہر آباد خوشاب) (31جولائی 1998ء) جواب۔ خصی شدہ جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔ ’’مسنداحمد‘‘، ’’سنن ابی داؤد‘‘ اور ابن ماجہ وغیرہ کی روایات میں تصریح موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید قربان کے دن دو دنبے ذبح کیے جو سینگ دار ابلق اور خصی تھے۔‘‘ [3] جانورکا گوشت اچھا بنانے کے لیے خصی کرنا عیب یا نقص نہیں ہاں البتہ بلاوجہ خصی کرنا واقعی معیوب کام ہے۔ خصی جانور ذبح کرنا نیز کیا جانور خصی کرنا جائز ہے؟ سوال۔ کیا خصی جانور کو ذبح کرنا جائز ہے ؟ مزید بتائیں کہ جانور کو خصی کرناجائز ہے یا کہ نہیں؟ (محمد زبیر بھٹی جھبراں) (13مارچ، 1992ء) [1] ۔ صحیح البخاری، بَابُ وَکَالَۃِ الشَّرِیکِ الشَّرِیکَ فِی القِسْمَۃِ وَغَیْرِہَا،رقم:3200 [2] ۔ صحیح البخاری، بَابُ الأَکْلِ یَوْمَ النَّحْرِ،رقم:955 [3] ۔ فتح الباری:10/14