کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 405
عیب والے جانور کی قربانی آدھے سے زیادہ ٹوٹے ہوئے سینگ والا قربانی کا جانور؟ سوال۔جناب میں نے قربانی کے لیے ایک دنبہ تین ماہ قبل خریدا جس کے سینگ نیچے کی طرف مڑے ہوئے تھے، دنبے کے ساتھ ہی ایک بچھڑا بھی بندھا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ دنبے کا ایک سینگ غائب ہے تھوڑا سا باقی ہے آپ یہ فرمائیں قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ دنبہ قربانی کے لیے جائز ہے۔ یا دوسرے جانور کا انتظام کیا جائے؟ (حکیم فاروق احمد اعوان) (23 فروری 2001ء) جواب۔ موجودہ صورت میں قربانی کا دنبہ تبدیل کرنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے( اَعْضَبُ الْقَرْنِ وَالْاُذُنِ)(ٹوٹے ہوئے سینگ یا کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ’’اعضب‘‘ سے مراد نصف یا نصف سے زیادہ کان کٹا یا سینگ ٹوٹا ہے اس سے کم ہو تو پھر گنجائش ہے ، لیکن بہتر یہی ہے کہ بالکل صحیح سالم اور باشرائط ہو۔ اگر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد عیب دار ہو جائے تو؟ سوال۔قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں عیب ہو جائے تو کیا عیب والے کی قربانی کرے یا دوسرا جانور لے کر قربانی کرے؟ جس قربانی کے جانور میں عیب ہو گیا وہ اﷲ کے نام کیا ہوا تھا۔ اب وہ جانور مسجد، مدرسہ یا کسی غریب کو دینا چاہیے یا مالک اپنے لیے رکھ لے؟ (محمد قاسم اﷲ ڈنوں سموں گوٹھ حاجی محمد سموں کنری سندھ) ( 11۔ اپریل 1997ء) جواب۔ مسئلہ ہذا میں اہل علم کا اگرچہ اختلاف ہے لیکن اس میں محقق مسلک یہ ہے کہ قربانی کے دن سے پہلے اگر کوئی ایسا عیب ہو جائے جو قربانی سے مانع ہو تو ایسی صورت میں جانور بدل لینا چاہیے اور معیوب جانور کو صدقہ کرنا چاہیے۔ صورت چاہے جونسی ہو اور اگر اس کو فروخت کرکے قیمت قربانی کے لیے دوسرے خرید شدہ جانور میں ڈال لی جائے تو یہ بھی جائز ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاویٰ اہل حدیث:2/530۔ لشیخنا محدث روپڑی رحمہ اللہ تعالیٰ۔ اگر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس کے عیب کا علم ہو ؟ سوال۔اگر قربانی خریدنے کے بعد پتہ چلے کہ یہ ایک آنکھ سے اندھا ہے یاکان میں سوراخ ہے یا مخنث ہے یا لنگڑا پن ہے تو آدمی کیا کرے؟(سائل) (12اپریل 2002ء) جواب۔ قربانی کا جانور خریدنے کے بعد معلوم ہو کہ اس میں قربانی سے روکنے والا کوئی عیب موجود ہے تو اس صورت میں اس کو تبدیل کرنا ہو گا۔ [1] ۔ مقدمۃ شرح النووی،ج:1،ص:15، صیانۃ صحیح مسلم،ص:78،98