کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 401
اس پر ہمارے انتہائی مخلص و مہربان دوست حضرت مولانا ارشاد الحق صاحب اثری(متعنا اللّٰہ بطولہ حیاتہ) نے تفصیلی تعاقب فرمایا ہے جو ’’الاعتصام‘‘ کے حالیہ شمارہ نمبر 23 میں شائع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت کو تخریج ِ حدیث اور رواۃ پر جو گہری بصیرت عطا فرمائی ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ اَللّٰھمَّ زِدْ فَزِدْ زیر بحث ’’حدیث مسنہ‘‘ میں ابو الزبیر کی تدلیس کے جواب میں علامہ اثری حفظہ اللہ نے دو دلیلیں ذکر کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ: 1۔ مسند ابی عوانہ (5/228) میں ابو الزبیر کے حصرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح موجود ہے۔ 2۔ ائمہ متقدمین بالخصوص شیخین کی اسانید و رجال پر وسعت ِ نظری کے پیش نظر ان کا تتبع و تفتیش متاخرین پر مقدم ہے۔ اوّل الذکر دلیل پر حضرت اثری حفظہ اللہ نے علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ سے دو اشکال ذکر کیے ہیں جن کی تفصیل سلسلہ صحیحہ(6/464۔465) میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ جن میں سے ثانی الذکر اشکال کو قوی قرار دیا ہے بشرطیکہ صحیح نسخے سے اس کی تائید ہو۔ البتہ اوّل الذکر اشکال کہ ’’مسند ابی عوانہ کا وہ طریق جس میں سماع کی تصریح ہے، معلق ہے اور معلق ہونے کے اعتبار سے لائق اعتناء نہیں۔‘‘ فاضل ممدوح نے اس اشکال کے دفاع کی بھرپور کوشش کی ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی بعض اوقات تصریح سماع کے لیے معلق روایت ذکر کرتے ہیں جب کہ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (لَمْ اَجِدْہُ)کہ مجھے یہ سند موصول نہیں ہو سکی۔ نتیجہ یہ اخذ کیا ہے کہ سماع کی تصریح کے لیے معلق روایت بھی کافی ہے اور اس کے لیے’’صحیح بخاری‘‘(بابُ لَا یَسْتَنْجِیْ بِرَوْثٍ) سے ایک مثال ذکر کی ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے زہیر عن ابی اسحاق کے طریق سے حدیث نقل کرکے سماع کی تصریح کی طرف اشارہ کرنے کے لیے فرمایا ہے: ( وَقَالَ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ یُوْسُفَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰن) اس تعلیق پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: (لَمْ اَجِدْہَا) اس لیے ایسی معلق روایت کی سند نہ بھی ملے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس پر گزارش ہے کہ اولاًّ:’’صحیح بخاری‘‘میں جو تعلیقات بصیغہ جزم ہیں، ان کے متعلق ائمہ محدثین کی رائے یہ ہے کہ جن رواۃ سے یہ تعلیقاً مذکور ہیں۔ امام بخاری کے التزام صحت اور تحری و تتبع کے پیش نظر ان رواۃ سے یہ یقینا صحیح ثابت ہیں۔ اگرچہ وہ موصول ثابت نہ بھی ہوسکیں اور ان رواۃ کے بعد سند کا یہ حصہ مذکور ہے۔ اس پر غور کرلینا چاہیے اور یہ رائے بلاشبہ صحیح ہے لیکن یہ حکم زیادہ سے زیادہ صحیح کے ساتھ خاص ہے۔ صحیحین کی تعلیقات کو مثال بنا کر دیگر کتب احادیث کی تعلیقات پر اعتماد بہرحال محل نظر ہے۔ خواہ وہ تعلیقات تصریح سماع کے لیے ہی ہوں۔ [1] ۔ ابوعوانہ،ج:5،ص: 228 [2] ۔ سلسلۃ الصحیحۃ (ج:66،ص:464،رقم: (2707) [3] ۔ مقدمۃ فتح الباری،ص:22