کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 399
ہے۔ صحاح ستہ کا بھرم تو پہلے ہی ٹوٹ چکا۔ آئندہ بھی اگر یہی پوزیشن رہی تو ضعیف البخاری و ضعیف المسلم بھی بن جائیں گے اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ تحقیق کو تو جاری رکھا جائے مگر ان پر قینچی چلانے سے احتراز کیا جائے اور جس طرح جمہور علمائے امت نے ان کو قبول کیا ہے ہم بھی ان کو قبول کریں۔ جیسا کہ امام نووی مقدمہ ’’شرح مسلم‘‘ (ج:1،ص:33) پر رقمطراز ہیں کہ: (وَاعلَمْ اَن ما کَانَ فِی الصَّحِیْحَیْنِ عَنِ الْمُدَلِّسِیْنِ بِعَنْ وَ نَحْوِہَا فَمَحْمُوْلٌ عَلٰی ثُبُوْتِ السَّمَاعِ مِنْ جِہَۃٍ اُخْرٰی ) اسی طرح’’تقریب‘‘ ،ص:9 پر رقمطراز ہیں: (وَ مَاکَانَ فِی الصَّحِیْحَیْنِ وَ شِبْہِہَا عَنِ الْمُدَلّسِیْنَ بِعَْن مَحْمُوْلٌ عَلٰی ثبوت السَّمَاعِ مِنْ جِہَۃٍ اُخْرٰی) اسی طرح ’’شرح مسلم‘‘(ج:1،ص:20) پر رقمطراز ہیں: ( وَ اِنَّمَا یَفْتَرِقُ الصَّحِیْحَانِ عَنْ غَیْرِہِمَا مِنَ الْکُتُبِ فِی کَوْنِ مَا فِیْہِمَا صَحِیْحًا لَا یُحْتَاجُ الی النَّظرِ فِیْہ وَ مَا کَانَ فِیْ غَیْرِہِمَا لَا یُعْمَلُ بِہ حَتّٰی یَنْظُرَ وَ تَوجَدَ فِیہِ شُرُوْطُ الصَّحِیْحِ ) اسی طرح حافظ سیوطی’’الفیہ‘‘ السیوطی (ص:34) پر فرماتے ہیں: ( و ما اَتَانَا فِی الصَّحِیْحَیْنِ بِعَنْ فَحَمْلُہٗ علٰی ثُبُوْتِہٖ قمن) اور اس کی شرح میں حافظ احمد محمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( وَ قَدْ وَقَعَ فِی الصَّحِیْحَیْنِ اَحَادِیثٌ کَثِیْرَۃٌ مِنْ رِوَایَۃِ بَعْضِ الْمُدَلِّسِیْنَ الثَّقَاتِ وَ لَم یَصْرَحُوْا فِیْھَا بِالسَّمَاعِ کَقَتَادَۃِ وَ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِ وَ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَ عَبْدُالرَّزَّاقِ وَ ہُوَ مَحْمُوْلٌ عَلٰی ثُبُوْتِ السَّمَاعِ مِنْ جِہَۃٍ اُخْرٰی غَیْرَ الَّتِیْ ذَکَرَھَا صَاحِبُ الصَّحِیْحِ ) اسی طرح شیخ الاسلام سید محب اللہ الراشدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”صحیحین کے متعلق تو آپ کا اور ہمارا یہی حسن خلق ہے کہ ان میں جو بھی رواۃ مدلسین ہیں ان کا عنعنہ و نحوھا اتصال پر محمول ہیں۔‘‘ [1] اگر اور بھی حوالے پیش کیے جائیں تو مضمون خاصا طویل ہوجائے گا اس لیے ان پر اکتفاء کرتاہوں۔ دوسری بات [1] ۔ سلسلۃ الصحیحۃ ،رقم:235