کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 395
اسی طرح (اَلصحیحۃ)(رقم:2368) میں پہلے (اَلْمَنتخب، مسند عبد بن حمید) سے (اَلْمَرئُ فِیْ صَلَاتِہٖ مَا انْتَظَرَہَا ‘)( حماد بن شعیب الحمانی عن ابی الزبیر عن جابر) کی سند سے ذکر کی اورفرمایا کہ یہ سند ضعیف ہے کیونکہ ابو زبیر مدلس اور حماد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کی متابعت ثابت ہے۔ چنانچہ اس کے بعد (ابن لھیعۃ ثَنَا اَبو الزُّبَیْرِ قَالَ : سَاَلْتُ جَابِرًا ) کی سند سے یہ روایت ذکر کی ہے اور فرمایا: (رِجَالُہُ ثِقَاتٌ غَیْرَ اَنْ ابْنَ لِھیَعَۃ سَیِّئُ الْحِفْظِ)اس کے راوی ثقہ ہیں سوائے ابن لھیعہ کے وہ سیء الحفظ ہے۔ پھر فرماتے ہیں، لیکن اس کی متابعت منقول ہے چنانچہ اس کے بعد ’’مسند احمد‘‘ سے (الاعمش عَن اَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ) کی مسند سے اسے ذکر کیا ور فرمایا :(ھٰذَا اِسْنَادٌ صَحِیْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ) کہ اس کی سند شرط مسلم پر صحیح ہے۔ غور فرمائیے بات کیا ہوئی اور پھر ابن لھیعۃ کی بیان کردہ صراحت سماع کو قبول کیا یا نہیں؟ اگر تصریح سماع کا اعتبار نہیں تو ابن لھیعہ کے حافظہ کی کمزوری کو ہی ذکر کیوں کیا؟ ابو زبیر کی تدلیس کا ذکر بھی ہونا چاہیے تھا۔ اس ساری تفصیل سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’صحیح مسلم‘‘ کی جن تین روایات کے بارے میں ابو الزبیر کی تدلیس کی بناء پر عدم اطمینان کا اظہار فرمایا وہ تینوں صحیح ہیں، بلکہ ان میں سماع بھی ثابت ہے۔ جب علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ ایسے نابغہ شخصیت کا یہ خدشہ درست نہیں تو متاخرین میں سے کسی کا ایسا حکم کیونکر قابلِ اعتناء ہو سکتا ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا تتبع بہرحال مقدم ہے۔ صحیحین میں مختلط اور متکلم فیہ راویوں کی احادیث کا انتخاب اور ان کے بارے میں امام بخاری و مسلم کی احتیاط پر اعتمادہے تو مدلسین کے بارے میں ہی بے اعتمادی کیوں ہے ؟ متاخرین میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے مدلسین کی معنعن روایات میں سماع کا تتبع کیا ہے تو یہ مزید اطمینان قلب کے طور پر ہے ، ان کو ضعیف یا نا قابلِ اعتماد ٹھہرانے کی بناء پر نہیں۔ حدیث مسنہ حدیث مسنہ ہی کو لیجیے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ امام ابن خزیمہ نے بھی اپنی ’’ الصحیح‘‘ (ج:4، ص:295)میں نیز ’’المنتقی ابن الجارود(رقم: 904) ’’ابوعوانہ‘‘ (ج:5،ص:227) ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد ابو یعلی اوربیہقی میں موجود ہے۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی اقتداء میں اسے ابو الزبیر کی تدلیس کی بناء پر ضعیف قرار دیا ۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ بھی عموماً انہی کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔ خود ہیچمدان ایک عرصہ پہلے ان کا ہمنوا تھا۔ چنانچہ انتیس سال قبل فروری 1972ء کے دو شماروں میں انہی خیالات کا اظہار کیا گیا تھا۔ مگر مزید تتبع و تحقیق سے ان خیالات سے اب اتفاق نہیں۔ اس لیے کہ امام ابوعوانہ نے اپنی ’’مسند‘‘ میں جو دراصل ’’صحیح مسلم‘‘ پر مستخرج ہے۔ ابو الزبیر کے سماع کی صراحت کی۔ چنانچہ زہیر عن ابی الزبیر کی مختلف اسانید ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: [1] ۔ صحیح مسلم،بَابُ سِنِّ الْأُضْحِیَّۃِ،رقم: 1963 [2] ۔ میزان الاعتدال: 4/39