کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 389
تَذْبَحُوْا اِلَّا مُسِنَّۃ…الخ)پر غالباً ’’دارقطنی‘‘ وغیرہ نے اعتراض نہیں کیا۔ (وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ) ۔ البتہ البانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور پھر ان کے عقیدت مندوں نے جی بھر کر اسے اچھالنا شروع کردیا اور یہ بازار اب تک گرم ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ میں نے البانی صاحب کی بہت سی علمی غلطیوں پر ان کی جو کتابیں میرے پاس ہیں ان پر بطورِ تنبیہ کچھ لکھ رکھا ہے۔ دس بارہ سال قبل جب وہ جدہ تشریف لائے تو میں نے اس کی نقل انھیں پیش کی کہ آئندہ ایڈیشن میں تصحیح کرلیں۔ لیکن غالباً وہ سمجھ نہ سکے۔ البانی صاحب تو اپنے رب سے جا ملے، ان کے مقلدوں سے سوال ہے کہ امام مسلم کو یہ معلوم تھا یا نہیں کہ ابو الزبیر مدلس ہے ؟ اگر جواب نفی میں ہے تو جہالت ۔ اور اثبات میں ہے تو ان کی روایتوں پر جو’’صحیح مسلم‘‘میں ہیں اعتراض صحیح نہیں۔ بلکہ امام مسلم نے ان کی وہی روایتیں صحیح میں شامل کی ہیں، جن کی صحت مسلّم تھی اور ان میں کوئی علت نہیں کیونکہ شرطِ صحیح اس کی متقاضی ہے۔ لہٰذا معترضین کو اعتراض سے قبل ان کے جمیع طرق سے واقفیت ضروری ہے ورنہ اعتراض جائز نہیں۔ چاہے معترض دارقطنی ہوں یا ابن حزم و البانی ،کسی کے لیے جائز نہیں۔ البانی صاحب کے مقلدین غالباً اس سے باخبرہوں گے کہ محدثین نے کتب احادیث پر مستخرجات کا التزام کیا ہے اور خاص طور سے صحیحین پر کئی مستخرجات ہیں۔ نیز مستخرجات کے فوائد سے بھی واقف ہوں گے۔ لہٰذا صحیحین پر اعتراض کرنے سے قبل ان مستخرجات کی طرف رجوع کرلینا چاہیے۔ اس وقت میرے پاس مسند ابی عوانہ مخطوط( قلمی نسخہ) اور کچھ مطبوع موجود ہیں یہ کتاب مستخرج علی صحیح مسلم ہے۔ اس کی مطبوعہ جلدوں میں سے پانچویں جلد کے ص:287 اور ص: 288پر اس حدیث زیر بحث کی بعض اسانید مذکور ہیں اور ص: 288 پر ہے: (رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی اَبوُ الزُّبَیْرِ أَنَّہ سَمِعَ جَابِرًا یَقُوْل و ذکر الحدیث) یہ طریق معلق ہے یہاں مصنف نے بالکل امام بخاری کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ امام بخاری نے اپنی ’’صحیح ‘‘ کے اکثر مقامات پر تحدیث و سماع ثابت کرنے کے لیے اسی طرح کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ابو الزبیر نے حضرت جابر سے اس حدیث کو سنا ہے۔ امام مسلم کو اس کی خبر تھی۔ انھیں کیا خبر تھی کہ ایک دور ایسا بھی آئے گا کہ وہ شخص بھی ان پر اعتراض کرنے کھڑا ہو جائے گا۔ جو ان کی پشم کے برابر نہیں ہوگا۔ بہرحال امام مسلم کی یہ حدیث بالکل صحیح ہے ۔اس پر اعتراض کرنے والوں کی نادانی کہہ لیجیے یا جہالت۔ یہ چند سطور دفاعِ صحیحین کے سلسلہ میں لکھی گئی ہیں اگرچہ اس میں کچھ تلخی بھی ہے لیکن میں صحیحین پر اعتراض برداشت نہیں کرتا۔ چاہے وہ کسی کے قلم سے ہو ۔ امید ہے کہ آپ غور فرمائیں گے۔ (ابوالاشبال احمد شاغف)(22جون 2001ء)