کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 385
راوی موجود ہیں۔ شارحین حدیث بالخصوص حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی عادت ہے کہ’’صحیح بخاری‘‘کے مدلس راوی پر وارد اعتراضات کا’’فتح الباری‘‘ میں دفاع ہر ممکن صورت میں کرتے ہیں۔ دفاع کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ تدلیس قدح(ایک نقص) ہے، اس نسبت سے راوی کے معیوب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس نازک مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس لکھ کر اس کو خوب اجاگر کیا ہے۔ مرتبہ اولیٰ میں تینتیس وہ افراد ذکر کیے ہیں، جو بہت کم موصوف بالتدلیس ہیں۔ اور مرتبۂ ثانیہ میں بھی یہی گنتی ہے۔ ان سب راویوں کی امامت و جلالت مسلمہ ہے اور روایات میں وہ قلت ِ تدلیس سے معروف ہیں جیسے سفیان ثوری ہیں، یا جس راوی کے بارے میں علم ہے کہ وہ صرف ثقہ سے تدلیس کرتا ہے ، جس طرح سفیان بن عیینہ ہیں۔ ان حضرات کی تدلیس کو ائمہ فن نے قابلِ برداشت سمجھا ہے۔ پھر مرتبہ ثالثہ میں پچاس افراد کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کثرت سے تدلیس کرتے ہیں۔ ائمہ نے ان کی احادیث کو صرف اسی صورت میں قابلِ حجت سمجھا ہے کہ وہ سماع کی صراحت کریں(یعنی لفظ(عن) بولنے کی بجائے (سَمِعْتُ)کہیں) زیر بحث راوی ابو الزبیر مکی کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہے اور اس نے مشارٌالیہ حدیث ’عن‘ کے لفظ سے بیان کی ہے، سماع کی صراحت نہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ محدثین کے قواعد و ضوابط کے مطابق اس کا جواب تلاش کیا جائے۔ اس صورت میں علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے وارد شبہ خود بخود زائل ہو سکتا ہے۔اگر ’’دارقطنی‘‘ کے اعتراضات کے جوابوں کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے تو اس اعتراض کا رفع ہونا بھی ضروری ہے۔ مجھے امید ہے کہ علمی اسلوب میں آپ اس کی طرف توجہ فرمائیں گے۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل تلمیذی عبد الرشید راشد حفظہ اللہ کی طرف سے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس تعاقب کا جائزہ۔(از مولانا عبدالرشید راشد) موقر جریدے’’ الاعتصام‘‘ کے شمارہ نمبر 7 (بتاریخ 28 ذوالقعدہ1421ھ) میں حضرت الاستاذ شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ صاحب مدنی متعنا اللہ بطول حیاتہ کا ایک مضمون’’قربانی کے ضروری مسائل‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا، جس میں حضرت نے’’صحیح مسلم‘‘کی معروف روایت : (لَا تَذْبَحُوْا اِلَّا مُسِنَّۃ اِلَّا اَنْ یُّعْسَرَ عَلَیْکُمْ فَتَذْبَحُوْا جَذْعَۃً مِنَ الضَّأْنِ) کی تضعیف محدث العصر علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کی اور اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ اس میں ابو الزبیر مکی مدلس راوی ہے اور یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مذکورہ سند میں عنعنہ(لفظ عن) سے بیان کرتاہے۔ اس لیے یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس پر محترم محمد قاسم شاہ صاحب الراشدی بایں الفاظ معترض ہیں کہ: ”الشیخ البانی نے تو’’صحیح مسلم‘‘کی اور بھی بہت سی روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘