کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 380
ہے جو قربانی اور اس کے ثواب میں اپنے علاوہ دوسرے کو بھی شریک کرنے کے قائل ہیں۔ یہی ہمارا اور جمہور کا مذہب ہے۔ میت کی طرف سے قربانی کے گوشت کا حکم عام قربانی کی طرح ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقدرِ حصۂ میت صدقہ کیا ہو۔ ابو رافع کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ گوشت مساکین کو کھلاتے ، خود کھاتے اور اپنے اہل و عیال کو بھی کھلاتے تھے۔ ہاں البتہ اگر صرف میت کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہو اور اس میں زندہ لوگ شریک نہ ہوں تو یہ صرف فقراء و مساکین کا حق ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مبارک نے فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مکرم و معزز افراد امت کی طرف سے بطورِ خاص قربانی کرنا ثابت نہیں۔ اگر اس کی کوئی اصل ہوتی تو صحابہ کرام اور سلف صالحین اس کے زیادہ حق دار تھے لیکن ان سے کچھ ثابت نہیں ہو سکا۔ شہید بھائیوں کی طرف سے قربانی کرنا سوال۔میرے دو بھائی جو کہ مجھ سے چھوٹے تھے۔ کشمیر میں یکے بعد دیگرے شہید ہو چکے ہیں۔ اب میں ان کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہوں کیا یہ جائز ہے یا کہ نہیں؟ نیز اگر قربانی کے علاوہ عام صدقہ ان کی طرف سے کیا جائے تو کیا جائز ہے یا کہ نہیں؟۔ (ایک سائل از بہاولپور) (12 جون 1998ء) جواب۔ میت کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔ تفصیل کے ملاحظہ ہو فتاویٰ شمس الحق عظیم آبادی اور مرعاۃ المفاتیح (2/358 تا 359) اس سلسلہ میں میرا تفصیلی فتویٰ ’’الاعتصام‘‘ میں شائع شدہ ہے۔ اور میت کی طرف سے عام صدقہ بھی ہو سکتا ہے صحیحین میں ہے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، میری ماں، ناگہانی مر گئی اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ بول سکتی تو ضرور صدقہ کی وصیت کرتی۔ پس اگر میں صدقہ کروں تو کیا اس کا ثواب اس کو ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (قربانی کے جانور کے اوصاف) کیا قربانی کا جانور بیچ کر اُس سے اچھا جانور خریدا جا سکتا ہے؟ سوال۔ زید کو قربانی کا جانور خریدے ہوئے تقریباً ایک ہفتہ گزر گیا۔ دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ یہ جانور بیچ کر اس کی قیمت میں کچھ رقم اور ملا کر ایک اعلیٰ قسم کا بکرا خرید کر قربانی کیا جائے لہٰذا بکر ا فروخت کردیا گیا۔ بعد میں دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ قربانی کا جانور بیچنا درست نہ ہے۔ لہٰذا سودا پھر واپس کروایا گیا۔ الف۔ کیا قربانی کا جانور بیچ کر اُس سے اچھا جانور خریدا جا سکتا ہے؟ ب۔ جب کہ یہ بیع لا علمی میں ہوئی۔ کیونکہ ارادہ صرف اس سے اچھا جانور خریدنے کا تھا۔ ج۔ اگر خریدار بیع واپس نہ کرتا تو؟ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابٌ: ہَلْ یَنْتَفِعُ الوَاقِفُ بِوَقْفِہِ؟،رقم:2754