کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 379
ہُوَ وَ أَھْلُہُ مِنْہُمَا ‘ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ کَانَ دَاْبُہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہ یَاْکُلُ مِنَ الْأُضْحِیَّۃِ ہُوَ وَ أَھْلُہُ وَ یُطْعِمُ مِنْہَا الْمَسَاکِیْنَ وَ أَمْرَ بِذٰلِکَ أُمَّتَہٗ وَ لَمْ یُحْفَظْ عَنْہُ خِلَافَہٗ فَإِذَا ضَحَّی الرَّجُلُ عَنْ نَفْسِہٖ وَ عَنْ بَعْضِ أَمْوَاتِہٖ أَوْ عَنْ نَفْسِہٖ وَ عَنْ أَھْلِہٖ وَ عَنْ بَعْضِ أَمْوَاتِہٖ فَیَجُوْزُ اَنْ یَّاکُلَ ہُوَ وَ أَھْلُہُ مِنْ تِلْکَ الْأُضْحِیَّۃِ وَ لَیْسَ عَلَیْہِ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِہَا کُلِّہَا نَعَمْ اِنْ تُخَصَّ الْأُضْحِیَّۃُ لِلْاَمْوَاتِ مِنْ دُوْنِ شِرْکَۃِ الْأَحْیَائِ فِیْہَا فَہِیَ حَقٌّ ِللْمَسَاکِیْنِ کَمَا قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ۔انتہی) [1] فوت شدہ کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے ؟ سوال۔فوت شدہ کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے ۔ اگرچہ اس نے کوئی وصیت نہ کی ہو؟ (محمد نصر اللہ گوندلانوالہ،تحصیل و ضلع گوجرانوالہ) (6 نومبر1992ء) جواب۔ فوت شدہ کی طرف سے بلاوصیت قربانی ہو سکتی ہے جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے افراد کی طرف سے قربانی کی تھی۔ ملاحظہ ہو کتب احادیث۔ فوت شدگان کی طرف سے قربانی کا حکم سوال۔جو آدمی فوت ہو گیا ہو، کیا اس کے نام سے قربانی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ جواز کی صورت میں اس قربانی کا گوشت گھر والے خود کھاسکتے ہیں یا نہیں؟ کچھ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی کرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے پیروں کے نام مثلاً غوثِ پاک وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں۔ کیا ان کی قربانی ہو جائے گی۔ (زاہد غزالی۔ لاہور) (8فروری 2002ء) جواب۔ میت کی طرف سے قربانی کرنا درست عمل ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے اور اپنے اہل بیت کی طرف سے اور اپنی امت کے ہر اس شخص کی طرف سے قربانی کرتے تھے جو توحید و رسالت کی شہادت دیتا ہو۔ ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے بہت سے لوگ آپ کے زمانے میں موجود تھے اور کچھ ان کی زندگی ہی میں وفات پا چکے تھے۔ امت کی طرف سے قربانی میں زندہ اور فوت شدہ کی تفریق کے بغیر دونوں طرح کے لوگ داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ حدیث محدثین نے متعدد سندوں سے نقل کی ہے۔ اس کی صحت میں بھی کوئی شک نہیں، یہ حدیث اس امر کی واضح دلیل ہے کہ میت کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔ ”شرح مسلم‘‘ میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ان لوگوں نے استدلال کیا [1] ۔ زاد المعاد:1/228،229