کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 378
جواب۔ بعض اقوال کے مطابق تیرہ تاریخ تک قربانی کرنے کا جواز ہے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تفسیراضواء البیان :5/496۔ فتاویٰ اہل حدیث:2/434، اور زاد المعاد نیز ابن کثیر اور فتح الباری:10/8۔ امت کی طرف سے قربانی کا ذکر سوال۔جس حدیث پاک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک قربانی امت کی طرف سے کرنے کا ذکر ہے اس میں یہ صاف ذکر ہے کہ یہ قربانی میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس سے صاف ظاہر ہے اس میں صرف ایسے افراد ہی شامل ہوتے ہیں جو اُس وقت زندہ تھے اور قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ رہی دوسری حدیث جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے وصیت کا ذکر ہے تو اس کی رو سے وصیت شرط ہے۔ تو پھر کیا وصیت کی عدم موجودگی میں بھی میت کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے؟ (سائل)(11 ۔اپریل 2008ء) جواب۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قربانی کی تھی وہ امت کے تمام افراد کی طرف سے تھی۔ عدم استطاعت کی قید حدیث میں موجود نہیں۔ حدیث کے الفاظ( وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ اُمَّتِیْ) سب کو شامل ہیں چاہے کسی کو استطاعت ہو یا نہ ہو، اور چاہے وہ موجود ہو یا فوت شدہ۔ جس طرح کہ ( وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَ اُمَّتِہِ ) سب افراد امت کو شامل ہے۔ انہی الفاظ سے شارحین حدیث کا استدلال ہے کہ قربانی واجب نہیں۔ کیوں کہ( وَ عَمَّنْ لَمْ یُضِحِّ ) بلا استثناء سب کو شامل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فوت شدہ کی طرف سے مطلقاً قربانی ہوسکتی ہے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ ’’غنیۃ الالمعی‘‘ میں ہے جس کا ماحصل یہ ہے: ( إِنَّ قَوْلَ مَنْ رَخَّصَ فِی التَّضْحِیَّۃِ عَنِ الْمَیِّتِ مُطَابِقٌ لِلْاَدِلَّۃِ وَ لَا دَلِیْلَ لِمَنْ مَنعََہَا وَ قَدْ ثَبَتَ أَنَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُضَحِیّ بِکَبْشَیْنِ أَحَدَہُمَا عَنْ نَفْسِہِ وَ أَھْلِ بَیْتِہٖ وَ الْآخَرُ عَنْ اُمَّتِہٖ مَنْ شَہِدَ لَہُ بِالتَّوْحِیدِ وَ شَہِدَ لَہٗ بِالْبَلَاغِ وَ مَعْلُوْمٌ أَنْ کَثِیْرًا مِنْ اُمَّتِہٖ قَدْ کَانُوْا مَا تُوا فِی عَھْدِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فِیْ أُضْحِیَّتِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْأَحْیَائُ وَالاَمْوَاتُ کُلُّہُمْ وَ الْکَبْشُ الْوَاحِدُ الَّذِیْ یُضَحِّیْ بِہٖ عَنْ أُمَّتِہِ کَمَا کَانَ لِلْأَحْیَائِ کَذَالِکَ کَانَ لِلْاَمْوَاتِ مِنْ اُمَّتِہٖ بِلَا تَفْرِقَۃٍ وَ لَمْ یَثْبُتْ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَصَدَّقُ بِذٰلِکَ الْکَبْشِ کُلِّہٖ وَ لَا یَاْکُلُ مِنْہُ شَیْئًا أَوْ کَانَ یَتَصَدَّقُ بِجُزْئٍ مُّعَیِّنٍ بِقَدْرِ حِصَّۃِ الْاَمْوَاتِ بَلْ قَالَ أَبُوْ رَافِعٍ : ’ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُطْعِمُہَا جَمِیْعًا الْمَسَاکِیْنَ وَ یَاْکُلُ [1] ۔ صحیح البخاری، کتابُ الشِّرْکَۃ، بَابُ قِسْمَۃ الْغَنَمِ،رقم:2488، معجم الکبیر،رقم:4383 [2] ۔ بحوالہ تحفۃ الاحوذی:2/356 [3] ۔ اعلام الموقعین:1/68