کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 372
( وَ اِسْنَادُہٗ صَحِیْحٌ، رِجَالُہُ رِجَالُ الصَّحِیْحِ) ”اس حدیث کی سند صحیح ہے اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔‘‘ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ’’صحیح الترمذی‘‘ میں شامل کیا ہے۔ جامعہ نظامیہ، رضویہ لاہور کے مفتی صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اونٹ کی قربانی میں دس آدمیوں کی حصہ داری کے بارے میں وارد روایات غریب اور ناقابلِ استدلال ہیں، غریب روایت سے حکم ثابت نہیں ہوتا، امام ترمذی نے(بَابُ الأُْضْحِیَۃ) میں اسے غریب کہا ہے۔ اسی پر اکتفاء کرنے کی بجائے مسلک اہل حدیث پر خوب کیچڑ اچھالا اور اپنی بھڑاس نکالی ہے۔ رضاخانی فرقے کی اور اس سے پہلے ہر دور کے اہل بدعت کی یہی عادت رہی ہے ۔شاہ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”اہل بدعت کی علامت ہے کہ اہل حدیث سے بغض رکھتے ہیں۔‘‘ لہٰذا یہ زبان انہی کو مبارک ہو۔ اس وقت بالاختصار جس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے وہ یہ کہ کیا فی الواقع حدیث ہذا ضعیف اور ناقابلِ عمل ہے اور افرادِ امت میں سے کسی کا اس پر عمل نہیں ہے؟ جن محدثینِ کرام نے اس روایت کو اپنی ’’تالیفات‘‘ میں جگہ دی ہے، پہلے ان کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں! مسند احمد(1/275) ، سنن ابن ماجہ(3131) سنن النسائی( 7/222)، صحیح ابن خزیمہ (2900)،صحیح ابن حبان(4007) ، معجم طبرانی کبیر(11929)،معجم طبرانی اوسط (8128)، حاکم(4/2900) ،بیہقی(5/235)، بغوی(1132)، تحفۃ الاشراف(5/151، حدیث رقم:1658) ، المسند الجامع(9/345، حدیث رقم: 6706) مفتی صاحب موصوف نے ’’امام ترمذی‘‘ کے حوالے سے صرف اس کی غرابت نقل کی ہے جب کہ امرِ واقع یہ ہے کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر حسن غریب کا حکم لگایا ہے اور اس سے مقصود سندوں کے اختلاف کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ بعض کے اعتبار سے غریب اور بعض کے اعتبار سے حسن ہے۔ ذیل میں اس روایت کے متعلق مختلف ائمہ حدیث کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں۔ ٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ( صَحِیْحٌ عَلٰی شَرْطِ الْبُخَارِیِّ ) ’’اس حدیث کی سند صحیح ہے اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔‘‘ ٭ امام الجرح والتعدیل ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی موافقت کی ہے۔ ٭ امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی’’صحیح‘‘ میں اسی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس موقف کو قوی قرار دیا ہے اور اپنے مسلک کی تقویت کے لیے رافع بن خدیج کی حدیث سے تائید حاصل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہادی مہم