کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 370
جواب۔ سوال کی صورت میں قربانی کا گوشت غیر مسلم کو دیا جا سکتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: (وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلاَ تَنْہَرْ) (الضحیٰ:10) بلا سوال دینا اچھا نہیں۔ حدیث میں ہے: ( وَ لَا یَاْکُلُ طَعَامَکَ اِلَّا تَقِیٌّ) [1] یعنی ’’تیرا کھانا پرہیز گار ہی کھائے۔‘‘ اونٹ کی قربانی میں دس حصہ داروں کی شراکت سوال۔ کیا اونٹ کی قربانی میں دس حصہ داروں کی شراکت صحیح حدیث سے ثابت ہے؟ (محمد صدیق تلیاں، ایبٹ آباد)(18 جون1999ء) جواب۔ اونٹ کی قربانی میں دس افراد کی شراکت والی حدیث کو مشکوٰۃ کے حاشیہ پر علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح کہا ہے۔ (1/461) اونٹ کی قربانی کے کل کتنے حصے ہیں؟ نیز بھینس کی قربانی کا حکم سوال۔اونٹ کی قربانی کے کل کتنے حصے ہیں؟ کیا بیل کی قربانی بھی جائز ہے ، نیز کیا بھینس کی قربانی ہو سکتی ہے؟ (ابوطاہر نذیر احمد، عبدالرشید۔کراچی) (23 فروری 2001ء) جواب۔ اونٹ کی قربانی میں دس حصے ہو سکتے ہیں۔[2] علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (حواشی مشکوٰۃ:1/462) گائے یا بیل کی قربانی تو جائز اور مشروع ہے۔(مشکوٰۃ ،باب فِی الاضحیۃ) البتہ بھینس کے متعلق زیادہ احتیاط والا مسلک یہ ہے کہ جن جانوروں کی قربانی بطورِ نص ثابت ہے صرف وہی کی جائے، بھینس ان میں شامل نہیں اور نہ صحابہ وتابعین سے اس کی قربانی کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ ہمارے شیخ روپڑی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید پار8 رکوع،4میں بَھہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ کی چار قسمیں بیان کی گئی ہیں: دنبہ، بکری، اونٹ، گائے۔ ان میں بھینس کا ذکر نہیں جبکہ قربانی کے متعلق ہے کہ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ سے ہو، اس بناء پر بھینس کی قربانی جائز نہیں۔[3]