کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 369
اسلام میں قربانی کی معروف ترین صورت عید اضحیٰ کے موقع پر سنت ِ ابراہیمی کی یاد میں جانور قربان کرنا ہے۔ اس کا سارے کا سارا گوشت کھایا جاتا ہے۔(سورۃ حج آیات:36۔37) اس سلسلہ میں مسلم تفاسیر کا تذکرہ بلاضرورت ہے۔ کیا عید الاضحیٰ کے دن اپنی قربانی کے گوشت سے ہی کھانا کھانا چاہیے؟ سوال۔ کیا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ عید الاضحیٰ کے دن اپنی قربانی کے گوشت سے ہی کھانا کھانا چاہیے؟(ابوطاہر نذیر احمد، عبدالرشید۔کراچی) (23 فروری 2001ء) جواب۔ عقبہ بن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آکر اپنی قربانی کا گوشت کھاتے، ابن قطان نے اس اضافے کو صحیح قراردیا ہے۔(نصب الرایہ:2/209، دارمی، ابن عدی) ( زاد احمد والدارقطنی والبیہقی، فَیَاکُل مِنْ اُضْحِیَتِہ) ” امام احمد ،دارقطنی اور بیہقی میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ’’ آپ اپنی قربانی کا گوشت کھاتے۔‘‘ جب کہ ’’آپ(عید گاہ سے) واپس آکر اپنی قربانی کی کلیجی کھاتے‘‘ اور ’’بیہقی‘‘ میں ہے: ( وَ کَانَ اِذَا رَجَعَ اَکَلَ مِنْ کَبِدِ اُضْحِیَتِہٖ ) [1] لیکن یہ صرف مستحب ہے واجب نہیں، حدیث البراء میں ہے: ( اِنَّ الْیَوْمَ یَوْمُ اَکْلٍ وَّ شُرْبٍ) [2] اس روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تو وضاحت فرمائی ہے کہ وقت سے پہلے قربانی ناکافی ہے لیکن اس کے کھانے سے روکا نہیں یہ جواز کی دلیل ہے۔ قربانی کے گوشت میں اپنا حصہ کتنا رکھنا چاہیے؟ سوال۔عید الاضحیٰ میں قربانی کرنے والا جس قدر گوشت اپنے لیے رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے یا تیسرے حصے سے زیادہ نہیں رکھ سکتا؟(سائل: محمد علی شاہ، لاہور) (31مئی 2002ء) جواب۔ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا کئی ایک اہل علم کے نزدیک مستحب ہے واجب نہیں۔ ضرورت کی بناء پر اگر کوئی زیادہ بھی رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔ (المرعاۃ:2/369) کیا قربانی کا گوشت ہندؤوں کو دینا جائز ہے؟ سوال۔ کیا قربانی کا گوشت ہندؤوں کو دینا جائز ہے؟(محمد قاسم اﷲ ڈنوں سموں گوٹھ حاجی محمد سموں کنری سندھ۔ 11۔ اپریل 1997ء) [1] ۔ سنن أبی داؤد،بَابُ مَا جَاء َ فِی ذَکَاۃِ الْجَنِینِ،رقم:2828 [2] ۔ سنن ابن ماجہ،بَابٌ فِی الشَّاۃِ یُضَحَّی بِہَا عَنْ جَمَاعَۃٍ،رقم:2810 [3] ۔ أیضًا [4] ۔ صحیح البخاری،بَابُ الأَکْلِ یَوْمَ النَّحْرِ،رقم:954،955 [5] ۔ سنن أبی داؤد،بَابُ مَا یُسْتَحَبُّ مِنَ الضَّحَایَا،رقم: 2795،سنن ابن ماجہ،بَابُ أَضَاحِیِّ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،رقم:3121