کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 367
جو اس امر کا اعلان تھا کہ سلیمان کی تعمیر کردہ ہیکل خدا کو منظور و مقبول تھی۔ وضاحت: بنی اسرائیل میں یہ سب خاص مواقع تھے۔ اس طرح قربانی کا گوشت پیش کرنا اور انہیں آگ کا کھانا قاعدہ نہیں تھا۔ مفسر کا خیال ہے کہ ہابل کی قربانی کو بھی آگ ہی کھا گئی ہوگی۔ یاد رہے کہ یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا تھا اگر اللہ پاک کے سچے نبی ہو تو اپنی قربانی آگ کو کھلا کر دکھاؤ۔ (آل عمران:183) کلام مجید میں چھٹے پارہ کے درمیان حضرت آدم علیہ السلاک کے دونوں بیٹوں کا یہی قصہ اپنے الفاظ میں مذکور ہے۔ قربانی کی منظوری کا طریقہ وہاں بھی نہیں بتایا گیا۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے معبودوں کے لیے جانوروں کی قربانیاں گزرانا اقوامِ عالم میں عام تھا۔ اہل اسلام کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ امتوں (بشمولِ یہود) کی نماز حق تعالیٰ کے حضور جانور قربانی کرنا تھا۔ پادری فانڈر بتاتے ہی ”جانوروں کی قربانی کی نہایت قدیم رسم جو کہ تمام اقوام میں پائی جاتی تھی۔ اُسے خدا نے جائز ٹھہرایا اور اس کے قواعد تورات میں مقرر کیے۔ تورات میں تعلیم یہ تھی کہ مختلف موقعوں پر مختلف قسم کے جانور قربان کیے جائیں اور ان قربانیوںکی مختلف اغراض تھیں۔‘‘(میزان الحق مصنف پادری سی جی فانڈر ڈی ڈی ،ص:73) یعنی قربانی کی یہ رسم قدیم سے چلی آرہی تھی۔ جو خدا نے تورات میں بھی قائم رکھی۔ علامہ پال ارنسٹ نے با وضاحت لکھا ہے: ” توریت میں قوانین تاریخی باتوں کے ساتھ باترتیب طور پر بیان نہیں کیے گئے بلکہ وہ بکھرے ہوئے ہیں اور پراگندہ صورت میں ہیں۔ اور ان کے لیے ترتیب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ قوانین ان حالات کی پیداوار ہیں یعنی ان حالات کے مطابق ہیں۔ جو خروج کے وقت اور پھر بعد میں ملک موعود میں تھے۔ وہ قوانین صرف موسوی زمانے ہی کے نہیں بلکہ ما بعد کے زمانے کے بھی ہیں اور اصطلاحات میں جو بہت سے فرق پائے جاتے ہیں، ان فرقوں اور اختلافوں کا باعث بھی وہ مختلف حالات ہی ہیں۔ خروج کے زمانے میں بیابان میں حالات اور طرح کے تھے۔ لیکن ملک موعود میں ان کے حالات اور طرح کے تھے۔ مگر ساری شریعت موسیٰ ہی سے منسوب کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ سب سے بڑا شارع تھا۔ وہ شریعت کا بانی اورچشمہ تھا۔ تو بعد کے قوانین بھی اسی سے منسوب کیے گئے۔ (حقائق بائبل مقدس مصنفہ علامہ پال ارنسٹ نائٹ آف [1] ۔ نیل المرام،ص:22 [2] ۔احکام القرآن:2/307 [3] ۔ المرعاۃ:2/342 [4] ۔ مصنف ابن ابی شیبۃ،کَیْفَ یُکَبِّرُ یَوْمَ عَرَفَۃَ،رقم:5651،(ج:2/ص212)۔ بحوالہ إرواء الغلیل:2/125