کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 350
طرق حدیث میں اس امر کی تصریح موجودہے۔ احرام کہاں سے باندھا جائے؟ سوال۔اکثر ہماری حج پر ڈیوٹی لگی ہے۔ اگر احرام باندھ کر جائیں تو طائف کی چوکی سے نہیں گزرنے دیتے ویسے بھی سرکاری طور پر ہمیں اجازت نہیں ہوتی۔ منیٰ میں آٹھ دس روز قیام حج سے پہلے ہوتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ 8 تاریخ کو وہیں سے ہم احرام باندھ لیں یا میقات پر دوبارہ جا کر احرام باندھنا لازم ہے ؟ کیا ہم مقیم کے زمرے میں آجاتے ہیں؟ (ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی) (12 جون 2009ء) جواب۔اگر پہلے سے حج کی نیت نہ ہو تو مقامِ عمل سے احرام باندھا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر واپسی ضروری ہے۔ میقات سے احرام باندھ کر آئیں اور اگر فدیہ دے کر وہیں سے احرام باندھ لیں تو یہ بھی درست ہے۔ حج تمتع کیا ہے؟ سوال۔ اگر کسی غریب آدمی کو بمشکل حج کی استطاعت نصیب ہوئی ہو ، تووہ حج کے ساتھ ہی عمرہ بھی کر آئے یا صرف حج کرکے واپس آجائے اور دوبارہ استطاعت ہو تو عمرے کو جائے؟ اگر حج و عمرہ اکٹھا کر لیا ہے تو یہ حج کی کون سی قسم ہوگی؟ (سائل) (8۔ اگست 2003ء) جواب۔ آدمی کو چاہیے کہ جب حج کے لیے سفر پر روانہ ہو تو میقات پر احرام باندھتے وقت عمرے کی نیت بھی کرلے، بعد ازاں عمرہ ادا کرکے احرام کھول دے، پھر آٹھ ذوالحجہ کو اپنی قیام گاہ سے حج کا احرام باندھ کر منیٰ کی طرف روانہ ہو جائے۔ شرعی اصطلاح میں اس کا نام حج تمتع ہے۔ بہت سارے اہل علم کے نزدیک حاجی کے ساتھ جب ھدی( قربانی) نہ ہو تو یہ حج کی افضل ترین قسم ہے۔ اس طرح ایک ہی سفر میں بآسانی حج اور عمرہ دونوں ادا ہو جائیں گے۔ حجِ قران کے لیے ’’ہَدْی‘‘ ساتھ لے جانا ضروری نہیں سوال۔ آج کل قربانی ساتھ لے جانے کا نہ وقت ہوتا ہے نہ اس کی جگہ۔ حکومت خود ہی منیٰ میں جانور پہنچا دیتی ہے۔ اس صورت میں نیت حج قران کی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟(ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی) (12جون2009ء) جواب۔ اس صورت میں حج ِ قران کی نیت ہو سکتی ہے۔ علاقہ سے ھَدْی کو ساتھ لے کر جانا شرط نہیں لیکن اگر ھَدْی لے جائے تو حجِ قران ہونا چاہیے۔ عمروں میں سر کے بعض حصوں کی تقصیر کرنا سوال۔حج یا صرف عمرہ کی نیت سے مکہ پہنچنے کے بعد عمرہ کی ادائیگی کے بعد سر کے بال اُسترے سے صاف کروائیں یا مشین سے کٹوائیں؟ بعض حضرات سر کا صرف چوتھائی حصہ بال کٹواتے ہیں۔ پھر دوسرے عمرہ میں اور چوتھے عمرہ میں [1] ۔ صحیح مسلم،بَابُ قَبُولِ الصَّدَقَۃِ مِنَ الْکَسْبِ الطَّیِّبِ وَتَرْبِیَتِہَا،رقم:1015