کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 347
عدی بن حاتم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب عورت حج بیت اﷲ کے لیے نکلے گی اس کے ساتھ کوئی نہیں ہو گا۔ اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرے گی۔‘‘ یعنی ایسا امن ہو گا کہ عورت اکیلی بے خوف و خطر سفر کرے گی۔ اسی طرح کتب احادیث وفقہ میں ہے کہ اگر کوئی عورت کفار کے قبضے میں آ جائے پھر وہ رہائی حاصل کرے تو وہ بالاتفاق اکیلی سفر کر سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو بوقتِ ہجرت بعض صحابہ کرام ہی لائے تھے۔ صحیح بخاری( حَجِّ النِّسَآئِ)میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اجازت سے عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف کے ہمراہ ’’حرم مبارک‘‘ (یعنی ازواجِ مطہرات) حج کو گئے۔[1] فریضہ حج اور عدتِ وفات جمع ہوجانے کی صورت میں کسے مقدم کیا جائے؟ سوال۔پچاس سالہ ایک عورت حج پر جانا چاہتی ہے۔ قبل از سفرِ حج، قضائے الٰہی سے اس کا شوہر انتقال کر جاتا ہے۔ اب وہ عدت ِ وفات پوری کرے یا حج پر چلی جائے؟ (ثناء اللہ بھٹی لاہور)(یکم جولائی 1988ء) جواب۔ صورتِ مسؤلہ میں دو واجب جمع ہوئے ہیں۔ (1) عدت ِ وفات پوری کرنا۔ (2) فریضہ حج کی ادائیگی۔ واجبین میں سے عدت ِ وفات کا تعلق ’’واجب مضیق‘‘ سے ہے، جب کہ حج کا تعلق ’’واجب موسع‘‘ سے ہے ! ’’واجب مضیق‘‘ وہ ہے جس کا وقت محدود ہو فدیہ دوسرے وقت میں کرنا ناممکن ہو۔ اور ’’واجب موسع‘‘ وہ ہے کہ جس کے وقت میں وسعت ہو اور اس کی ادائیگی دوسرے وقت میں ممکن ہو۔ عدت ِ وفات کا تعلق’’واجب مضیّق ‘‘ سے ہے، اس لیے کہ کسی دوسرے وقت میں اسے پورا کرنا ناممکن ہے۔ جب کہ حج کا تعلق ’’واجب ِ موسّع‘‘ سے ہے ، جو بعد میں بھی ادا ہو سکتا ہے۔ اندریں صورت اہل اصول کے ہاں یہ بات مسلّم ہے کہ واجب مضیّق کو واجب موسع پر مقدم کیا جاتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ عورت پہلے عدت پوری کرے گی اور پھر حج کی ادائیگی کی سعی کرے گی۔ قرآن مجید میں ہے: (وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا) (البقرۃ: 234) ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجاتے ہیں اور بیویوں کو چھوڑ جاتے ہیں تو وہ چار ماہ دس دن انتظار کریں۔‘‘ فقیہ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( وَ لَا تَخْرُجُ اِلَی الْحَجِّ فِیْ عِدَّۃِ الْوَفَاۃِ نَصَّ عَلَیْہِ اَحْمَدُ) [2]