کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 343
اندریں حالات دشمن کی طرف سے رکاوٹ پیدا کرنے کے امکان کو ردّ نہیں کیا جا سکتاتھا۔ دشمن کو مزید تسلی و اطمینان دلانے کے لیے کہ ہمارا ارادہ حرب و قتال کا نہیں ، جانوروں کی گردنوں میں پٹے ڈال دیے جو امن کی علامت تھی۔ اس کے باوجود ان کے سامنے سرداری اورچودھراہٹ مانع آئی تو مسلمانوں کو حدودِ حرم کے قریب ہی جانور ذبح کرکے اس شرط پر واپس آنا پڑا کہ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ معاہدہ کی بناء پر یہ سال چونکہ امن و سلامتی کا سال تھا اس لیے دوسرے سال مسلمان ہدایا(قربانی کے جانور) ساتھ لے کر نہیں آئے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ راستے میں روکے جانے کی صورت میں جیسی قربانی میسر ہوگی، ذبح کرنے کا جواز ہے۔ اونٹ ، گائے بکری اور جانور دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ امام احمد اور ایک قول کے مطابق امام شافعی فرماتے ہیں کہ د س روزے رکھے۔(المغنی:5/200) بعض نے کہا اگر جانور نہ مل سکے تو اسی طرح حلال ہو جائے۔ بعد میں میسر آنے پر قربانی کردے، بعض نے کہا فدیۃ الاذی ادا کرے۔ قریب ترین مسلک یہ ہے کہ محصر(روکا گیا شخص) تمتع پر قیاس کرتے ہوئے دس روزے رکھے۔(تفسیر اضواء البیان:1/117) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو روکے جانے کا پیشگی علم نہ تھا لیکن خطرہ ضرور تھا، اس لیے پہلے سے انتظام کرنا پڑا، یاد رہے حج یا عمرے سے روکا گیا آدمی اسی جگہ جانور ذبح کرکے حلال ہو سکتا ہے۔ قربانی کا حرم کی حدود میں داخل ہونا ضروری نہیں، جس طرح کہ بعض اہل علم کا مسلک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کرنے کا خواب سوال۔ قرآن میں ہے ( لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہٗ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ) ’’یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب عمرہ کرنے کے متعلق۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی ارادہ سے نکلے مگر مشرکین مکہ نے آپ کو واپس کردیا۔ دونوں باتیں متضاد ہیں۔ یعنی قرآن بھی درست ہے۔ آپ کا خواب بھی سچا۔ مگر اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ نہ کر سکے۔ وضاحت و تشریح مطلوب ہے؟ (15 نومبر 1996ء) جواب۔خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کی صرف بشارت دی گئی تھی۔ وقت کا تعین نہیں تھا۔ اس صداقت کا اظہار سن سات ہجری کو ہو گیا۔ {یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ } (اٰل عمرٰن:40) صاحب ِ استطاعت شخص کا عمرہ کے لیے جانا اور چوری چھپے حج کا فریضہ ادا کرنا سوال۔ جو لوگ عمرہ کا ویزہ لے کر سعودی عرب جاتے ہیں اور وہاں جا کر حکومت کی نظروں سے چھپ کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔ پھر حج کرکے اپنے ملک واپس آتے ہیں۔ کیا اس طریقہ سے بھی حج کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ فعل چوری یا [1] ۔ السنن الکبرٰی للبیہقی،بَابُ الْمَرْأَۃِ تَزُورُ زَوْجَہَا فِی اعْتِکَافِہِ وَمَا فِی تِلْکَ الْقِصَّۃِ مِنَ السُّنَّۃِ فِی تَرْکِ الْوُقُوفِ فِی مَوَاضِعِ التُّہَمِ،رقم:8605،شعب الایمان،فَصْلٌ فِیمَنْ أَبَعْدَ نَفْسَہُ عَنْ مَوَاضِعِ التُّہَمِ،رقم:6381