کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 337
گھر والوں کا صدقہ کا جانور اپنے لیے پکانا اور کھانا سوال۔ گھر والوں نے صدقہ کا جانور ذبح کیا۔ کیا اس میں سے لے کر اپنے لیے پکایا اور کھایا جا سکتا ہے؟ (انجینئر محمد بلال کوٹ ادو، ضلع مظفر گڑھ) (10 مئی 1996ء) جواب۔ عام صدقہ سے مقصود چونکہ اللہ کا قرب ہوتا ہے اس لیے اصل یہ ہے کہ صاحب بیت خود کچھ نہ کھائے ورنہ صدقہ وہی حصہ ہوگا جو عملاً صدقہ کردیا ہے۔ صدقہ کا بکرا ذبح کرکے خود بھی کھایا جا سکتاہے؟ سوال۔ ایک آدمی نے صدقہ کا بکرا ذبح کیا۔ کیا وہ خود بھی یہ گوشت کھا سکتا ہے؟ قرآن و سنت سے دلیل دیں۔ (فتح علی گہلن ہٹھاڑ) (12مارچ 1999ء) جواب۔ صدقہ کا گوشت فقراء کو کھلانا چاہیے۔ خود نہ کھائے۔ بالخصوص صدقہ واجبہ ہاں البتہ عمومی دعوت کی صورت میں خود بھی کھا سکتا ہے۔ مثلاً احبابِ جماعت کی عمومی دعوت کی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ باپ کے علم میں لائے بغیر مال سے غرباء و مساکین کی اعانت کرنا سوال۔مسئلہ یہ ہے کہ والد صاحب مجھے جو دو ہزار روپے دوائیوں کا خرچ دیتے ہیں۔ اس میں سے جتنا ہو سکے۔ غریبوں خصوصاً گھریلو ملازموں(جو کوٹھی کے سرونٹ کوارٹر میں رہتے ہیں) کی مدد کرتی رہتی ہوں۔ اس کے علاوہ والدہ صاحبہ اور والد صاحب کی اجازت کے بغیر ان کے پیسے نکال کر جب ملازموں کو ضرورت ہو، دیتی رہتی ہوں۔ ملازم ایک کمانے والا ہے۔8۔10 افراد (بیوی بچے) کھانے والے ہیں۔ اس کی تنخواہ 2000 روپے ماہانہ ہے۔ گزارا انتہائی تنگی سے ہوتا ہے۔ ہمارے گھر کا ہر فرد حتی الوسع ان کی ہر طرح کی مدد کرتا رہتا ہے۔ اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ میں جو والدین کی اجازت کے بغیر ان کی رقم نکال کر غریبوں کو اس وقت دیتی ہوں جب ان کو ضرورت ہو ، تو کیا یہ چوری سمجھی جائے گی ؟اور کیا مجھے گناہ ملے گا۔ اس مسئلہ کا حل میں نے حافظ صلاح الدین یوسف صاحب سے اور حافظ ثناء اللہ پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور خطیب جامع مسجد آریہ نگر سمن آباد سے ٹیلیفون پر پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا گناہ بہت کم ہے اور ثواب بہت زیادہ۔ اب میں اپنی تسلی کے لیے یہ چاہتی ہوں کہ میرے پاس لکھا ہوا ثبوت ہو۔ آپ حضرات کے جواب کی منتظر رہوں گی۔ (نصرت ہاشمی مزنگ چونگی) (21 جون 1996ء) جواب۔ والد محترم کی اجازت کے بغیر ان کے مال سے غرباء و مساکین کی اعانت کرنا درست فعل نہیں۔ اس بات کا علم والد صاحب کو تفصیلی یا اجمالی ہونا ضروری ہے کیونکہ مال کے مالک وہ ہیں آپ نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس سے بدگمانی بھی پیدا ہو سکتی ہے جس سے گھریلوزندگی کے مجروح ہونے کا اندیشہ ہے۔ بعض احادیث میں ہے: [1] ۔ فتح الباری:3/357 [2] ۔ صحیح البخاری،بَابُ یُقَاتَلُ مِنْ وَرَاء ِ الإِمَامِ وَیُتَّقَی بِہِ،رقم:2957 [3] ۔ صحیح البخاری،بَابُ مَا قِیلَ فِی الرِّمَاحِ،قبل الحدیث: 2914