کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 328
(اِنَّمَا الاَْعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ)[1] گورنمنٹ کا بیاجی قرضہ لینے والے کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟ سوال۔ایک آدمی کی فیکٹری ہے۔ لیکن اس نے گورنمنٹ سے قرضہ لے کر بنائی ہے۔ تین چار سال گزرنے کے بعد بھی وہ گورنمنٹ کا قرضہ نہیں اتار سکا۔ بلکہ اور لوگوں سے بھی قرضہ لے کر فیکٹری میں ڈالا ہے ابھی تک وہ قرضہ اتارنے کی پوزیشن میں نہیں آسکا۔ قرض خواہ اسے تنگ کرتے ہیں۔ کیا اس صورت میں قرضہ اتارنے کے لیے اُسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟(سائل محمد ابراہیم،قصور) (24 اپریل 1998ء) جواب۔ ظاہر ہے متذکرہ بالا فیکٹری بیاج کے پیسہ سے بنائی گئی ہے۔ایسے شخص کوبطورِ اعانت زکوٰۃ کا مال نہیں دینا چاہیے۔ البتہ بیاجی یا حرام مال سے اس کی امداد ہو سکتی ہے تاکہ حرام کامال حرام رستے جائے۔ مفلوک الحال مزدور شخص کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟ سوال۔ ایک آدمی کے پاس اپنا آبائی مکان ہے جو کہ 4۔5 لاکھ کا ہے۔اس کے پاس کوئی زیور بھی نہیں ہے۔ وہ نوکری یا مزدوری کرکے بال بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ اس کے گھر کا خرچہ زیادہ ہے اور آمدن تھوڑی ہے۔ اس لیے وہ مقروض رہتا ہے۔ کیا اس کا قرضہ زکوٰۃ کی مد سے اتارا جا سکتا ہے؟ بَیِّنُوْا تُوجرُوْا۔ (سائل محمد ابراہیم،قصور) (24 اپریل 1998ء) جواب۔ ایسے شخص کو قرض اتارنے کے لیے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کیوں کہ مفلوک الحال ہے۔ کیا مالِ زکوٰۃ قبرستان کی زمین یا چار دیواری پر صرف ہو سکتا ہے؟ سوال۔ قبرستان کی زمین یا اس کی چار دیواری پر مالِ زکوٰۃ صرف کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ (شیخ محمد سلیم سیالکوٹ) (9 اگست 1996ء) جواب۔ قبرستان کی زمین یا اس کی چاردیواری پر مال زکوٰۃ صرف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ’’سورۃ التوبہ‘‘ میں ذکر کردہ آٹھ مصارف میں سے کسی سے اس کا تعلق نہیں۔ تاہم بعض مفسرین نے مصرف ’’فی سبیل اللہ‘‘کو عام کرکے رفاہِ عامہ کے تمام کاموں کو اس میں شامل کرنے کی سعی کی ہے۔ لیکن یہ نظریہ درست نہیں۔ اگریہ مصرف اتنا ہی عام ہوتا تو دیگر سات مصارف کو بھی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس لیے کہ لفظ ’’فی سبیل اللہ‘‘میں وہ بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ قرآنی آیت میں ان کا علیحدہ ذکر کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ اس سے مقصود مخصوص امور ہیں اور وہ جہاد اور حج و عمرہ ہیں۔ بعض روایات میں ان امور کی تصریح موجود ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ’’سنن ابی داؤد‘‘ وغیرہ۔