کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 327
جواب۔ قرض اگر زکوٰۃ میں شمار کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ مسکین زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ قرض معاف کردینا بعینہٖ دے دینا ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے: ( وَ اِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ) (البقرۃ:280) ”یعنی مقروض اگر تنگ دست ہو تو آسانی تک ڈھیل دینا چاہیے اور صدقہ کردینا یعنی قرض چھوڑ دینا یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔‘‘ قرض چھوڑنے کو صدقہ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا یہ بھی صدقہ دینے کی ایک صورت ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوئی شک نہیں۔ قرض اتارنے کے لیے زکوٰۃ کا حصول سوال۔ایک زمیندار (15۔20) ایکڑ زمین کا مالک ہے۔ اس کے پاس ٹریکٹر بھی اپنا ہے ، لیکن زمین کے اخراجات نکال کر زمین کی بچت سے اس کے گھر کا گزاراہ نہیں چلتا۔ اس لیے وہ ہمیشہ مقروض رہتا ہے۔ کیا اس صورت میں اسے قرضہ اتارنے کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟(سائل محمد ابراہیم،قصور) (24 اپریل 1998ء) جواب۔ اگر وہ فی الواقع تنگ دست ہے تو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ قرآن میں قصہ خضر میں مسکینوں کے لیے کشتی کی ملکیت کا اثبات ہے جب کہ دوسری طرف انھیں مصارفِ زکوٰۃ میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا بعض ملکیتیں مصارف میں ناکافی ہونے کی بناء پر آدمی زکوٰۃ کا مستحق بن سکتا ہے جس طرح کہ مذکورہ بالا صورت میں ہے۔ حاجت مند مقروض دوست کو زکوٰۃ دینے سے ادا ہو جائے گی سوال۔ میرا ایک دوست َمقروض ہے۔ میں نے کہا کہ مجھ سے زکوٰۃ کی رقم لے کر اپنا قرض ادا کرو۔ وہ لینے کو تیار ہے لیکن اس کی خواہش ہے کہ جب اس کے حالات بہتر ہو جائیں تو وہ یہ رقم کسی اور مستحق کو دے دے۔ کیا ایسی صورت میں میری زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟ کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ یہ رقم قرضہ سمجھی جائے جو دوست مجھے تو نہیں لیکن کسی اور کو ادا کر دے گا، اور میرے ذمے زکوٰۃ باقی رہ جائے گی؟ جواب۔حاجت مند مقروض کو زکوٰۃ دینے سے ادا ہو جائے گی اگرچہ بوقتِ وسعت وہ یہ رقم کسی اور کو ادا کر دے۔ آپ کی طرف سے رقم ہذا قائم مقام قرض نہیں ہو گی بلکہ ایک فرض کی ادائیگی ہے۔ حدیث میں ہے: [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا تَصَدَّقَ عَلَی ابْنِہِ وَہُوَ لاَ یَشْعُرُ ، رقم:1422