کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 326
دے دی جائے تو اس میں کوئی شرعی قباحت ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوئی نقص تو نہیں ہوگا؟ جواب۔ مستحقین زکوٰۃ کو آگاہ کرنا ضروری نہیں کہ یہ مالِ زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ دینے والے کا فرض ہے کہ وہ مستحق کو منتخب کرے تاکہ زکوٰۃ صحیح مصرف پر لگ سکے۔ ہاں البتہ اگر کوئی خیراتی ادارہ ایسا ہو جو متعدد انواع کے اموال قبول کرتا ہو اس کے ذمہ داران کو ضرور مطلع کردینا چاہیے کہ یہ مال زکوٰۃ ہے تاکہ یہ رقم زکوٰۃ کی مد میں خرچ ہو۔ کیا ایک ہی شخص کو زکوٰۃ کی مکمل یا زیادہ تر رقم دی جا سکتی ہے ؟ سوال۔ زکوٰۃ کی رقم سے ایک ہی آدمی کو ہزار ہا روپے دے دینا کہ وہ اس سے اپنا کاروبار کرے اور کسی کا محتاج نہ رہے، کیسا ہے ؟ (سائل) (27 جون2003ء) جواب۔ اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ بقدرِ نصاب ایک ہی شخص کو صدقہ نہیں دینا چاہیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ’’صحیح بخاری‘‘ میں جواز کے قائل معلوم ہوتے ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں: (اَبٌ: قَدْرُ کَمْ یُعْطَی مِنَ الزَّکَاۃِ وَالصَّدَقَۃِ، وَمَنْ أَعْطَی شَاۃً) پھر(نُسَیْبَہ) انصاری کے قصے سے استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک مکمل بکری عنایت فرمائی تھی جو بعد میں انھوں نے بطورِ ہدیہ حضرت عائشہ کو پیش کردی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّہَا)[1] ”وہ اپنی اصل جگہ پہنچ گئی ہے۔‘‘ امام محمدبن حسن الشیبانی(امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد) بھی جواز کے قائل ہیں۔ ’’صحیح بخاری‘‘ کے ترجمۃ الباب میں حسن سے منقول ہے:(فِی أَیِّہَا أَعْطَیْتَ أَجْزَأَتْ )[2] مصارفِ زکوٰۃ میں سے جس صنف کو زکوٰۃ دی گئی، ادا ہو جائے گی۔ حسن کے نزدیک (لِلْفُقَرَائِ)کا لام مصرف کی وضاحت کے لیے ہے ، لام تملیک نہیں۔ حضرت خالد کا اسلحہ تیار کرنے والا واقعہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ آٹھ مصارف میں سے کسی صنف کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ یہی مسلک راجح ہے۔ (وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ ۔) مقروض کا قرض زکوٰۃ میںشمار کرنے کا حکم سوال۔ایک غریب آدمی کسی سے ہزار دو ہزار روپے قرض لیتا ہے پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد قرض دینے والا اس مقروض کو یہ کہتا ہے کہ میرے وہ روپے زکوٰۃ میں قبول کریں۔ کیااس طرح زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ (یقین شاہ اورکزائی ابوظبی) (3مارچ 2000ء)