کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 324
سکول کے طلبہ اورعملے پر زکوٰۃ صرف کرنا سوال۔ ایک سکول میں غریب نادار، بے سہارا اور معاشرے کے نظر انداز کیے گئے بچوں کو قرآن مجید ناظرہ،نماز، نمازِ جنازہ، مسنون دعائیں، کلمے، اور عملی دینی تربیت کے ساتھ ساتھ پرائمری تک مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ بچوں کو کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور بعض اوقات بیگ بھی مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس سکول میں اکثر ورکشاپوں اور کوٹھیوں میں کام کرنے والے ملازمین کے بچے تعلیم وتربیت حاصل کرتے ہیں۔ کیا ان بچوں اور اس انتظام میں مشغول عملے کے لیے زکوٰۃ جائز ہے ؟ (سیکرٹری جامع شان اسلام، گلبرگ،لاہور) (9اگست 2002ء) جواب۔ صورتِ مذکورہ میں فقراء مساکین بچوں پر مالِ زکوٰۃ صرف ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ مستحق زکوٰۃ صفت سے متصف ہیں اور اس جگہ کام کرنے والا عملہ بھی اس سے مستفید ہو سکتاہے۔ کیونکہ وہ عاملین کے زمرے میں شامل ہیں جو مصرف ِ زکوٰۃ ہے۔ کیا شادی شدہ تنگدست بیٹی مصرفِ زکوٰۃ ہے؟ سوال۔اگر کسی شخص نے اپنی لڑکی کی شادی کردی ہے اور وہ لڑکی اپنے گھر میں بڑی تنگدستی کی زندگی بسر کر رہی ہے، کیا اس کا باپ اسے زکوٰۃ دے سکتا ہے؟ ( ایک سائل: مین بازار کامونکے) (23 جون 1995ء) جواب۔ فقروفاقہ کی صورت میں والد اپنی شادی شدہ بیٹی کو زکوٰۃ کا مال دے سکتا ہے۔’’صحیح بخاری‘‘میں ہے: ”ایک شخص یزید نے صدقہ کا مال مسجد میں رکھا تاکہ کسی حق دار کو دے دیا جائے۔ اتفاقاً بیٹے نے آکر اٹھا لیا۔ باپ کو پتہ لگا تو کہا(وَاللّٰہِ مَا اِیَّاکَ اَرَدْتُّ) ’’اللہ کی قسم میں نے تجھے دینے کا ارادہ نہیں کیا۔‘‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا:(لَکَ مَا نَوَیْتَ یَا یَزِیْد وَ لَکَ مَا اَخَذْتَ یَا ) [1] ”یعنی یزید تیرے لیے وہ کچھ ہے جو تو نے نیت کی ہے اور اے معن حاصل کردہ مال کا حقدار تو ہے۔‘‘ مذکورہ حدیث میں تصریح لڑکے کی ہے لیکن بحیثیت اولاددونوں کا حکم یکساں ہے۔ بالخصوص اس صورت میں جب کہ خاوند کسب سے عاری ہو۔ یا لاپتہ ہو یا وفات پا چکا ہو وغیرہ وغیرہ۔ کیا بظاہر مفلوک الحال صاحب ِ حیثیت پر زکوٰۃ واجب ہے؟ سوال۔عرض حال یہ ہے کہ میرے پاس کوئی جائیداد نہیں۔ رہائش کے لیے اپنا ملکیت مکان تک نہیں عارضی پرائیویٹ ملازمت کرکے گزر اوقات کرتا ہوں اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔ سب سے بڑا لڑکا مِل میں ملازمت کرتا ہے۔ غیر شادی شدہ ہے۔ بے نماز ہے، سگریٹ پیتا ہے۔ گھر میں پیسے نہ ہونے کے برابردیتا ہے یعنی کبھی سال چھ مہینے کے بعد [1] ۔ سنن ابی داؤد،بَابُ الْعُمْرَۃِ،رقم:1988 [2] ۔ سنن الدارمی،بَابُ:إِذَا أَوْصَی بِشَیْء ٍ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ،رقم: 3347 [3] ۔ نیل الاوطار:4/184