کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 318
جواب۔ موجودہ صورت میں مالِ زکوٰۃ سے کتابیں خریدنا درست نہیں ۔ امام ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ کا قول ہے کہ جنگ میں زکوٰۃ وہی شخص لے سکتا ہے جس کے پاس خرچ نہ ہو، پس جب جنگ میں غنی کی بابت اختلاف ہوا تو تعلیم و تعلم کا معاملہ تو اس سے زیادہ نازک ہے۔ مال زکوٰۃ میں اگر آپ کا حق تصرف و اختیار ہوتا تو خرید کر دے سکتے تھے لیکن یہاں استحقاق نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔ لہٰذا آپ مال زکوٰۃ کے مستحق کو دیں ، وہ خود خرید لے گا۔ مسجد پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا سوال۔ کیا مسجد پر زکوٰۃ کا روپیہ لگایا جا سکتا ہے ۔ قرآن میں زکوٰۃ کے مصارف آٹھ ہیں۔ ’’فی سبیل اللہ‘‘ سے مراد مسجد لیا جا سکتا ہے؟ جواب۔ قرآن میں مصرف ’’فی سبیل اللہ‘‘ سے مراد جہاد وغیرہ ہے۔ صحیح مسلک کے مطابق مسجد اس میں شامل نہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، فتاویٰ اہل حدیث : 2/483۔494۔ زکوٰۃ کی رقم تعمیر مسجد پر صرف ہو سکتی ہے ؟ سوال۔کیا زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر و مرمت یا دوسرے اخراجات پر لگائی جا سکتی ہے؟ (محمد احسان۔ لاہور) (12 دسمبر 1997ء) جواب۔ زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر و مرمت پر صرف نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ غرباء و مساکین وغیر کاحق ہے۔ اور لفظ فی سبیل اﷲ میں اولیٰ مسلک کے مطابق مسجد داخل نہیں۔ زکوٰۃ کی رقم سے مسجد کی تعمیر کا حکم سوال۔مکرمی جناب شیخ الحدیث صاحب۔ السلام علیکم! کیا زکوٰۃ کی رقم مسجد کی تعمیر پر خرچ کی جا سکتی ہے ؟ بعض علماء کا خیال ہے۔ مسجد کی تعمیر پر خرچ ہو سکتی ہے یہ بھی ’’فی سبیل اللہ‘‘میں ہے۔ لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ نہیں ہو سکتی ہے۔ (ڈاکٹر عبدالغفور۔سانگڑھ) (3مارچ2000ء) جواب۔ قرآنِ مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ’’ فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ اس لفظ کے عموم کی بناء پر کئی ایک اہل علم کا خیال ہے کہ ہر کارِ خیر پر زکوٰۃ صَرف ہو سکتی ہے۔ اس میں مسجدیں بھی شامل ہیں۔ا گر کوئی شخص اس پر عمل کرے تو اس پر اعتراض تو نہیں ہو سکتا لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر پر زکوٰۃ صرف نہ کی جائے ، کیونکہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ’’سبیل اللہ‘‘ سے مراد ’’جہاد یا حج و عمرہ ‘‘ لیا جائے جس طرح کہ شرعی نصوص سے ثابت ہے۔ ’’سنن ابی داؤد‘‘ کے (بَابُ الْعُمْرَۃ)میں ہے: