کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 317
وغیرہ نہیں کر سکتے۔ (کیونکہ سفر کرنے سے دین کا کام بند ہو جاتا ہے) زکوٰۃ سے امام مسجد کی تنخواہ سوال۔کیا زکوٰۃ کی رقم سے مسجد کے امام کو تنخواہ دی جا سکتی ہے۔ امام کی ڈیوٹی صرف نمازِ پنجگانہ کی امامت ہے۔ (عبدالرشید عراقی، سوہدرہ۔ضلع گوجرانوالہ) (10جنوری 1992ء) جواب۔ زکوٰۃ کے مصارف ’’سورۃ توبہ‘‘( آیت :60) میں متعین ہیں۔ اگر مذکورہ امام کا شمار ان میں ہے تو کچھ لے سکتا ہے ورنہ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب حدیث میں اذان پر اُجرت لینی منع آئی ہے، امامت کا معاملہ تو اس سے زیادہ اہم ہے۔ اس پر اُجرت وصول کرنی بطریق ِ اولیٰ ناجائز ہے۔ تاہم بعض علماء وقت کی پابندی کے پیش نظر مطلق تنخواہ کے تقرر اور جواز کے قائل ہیں۔ تحصیلِ زکوٰۃ/ دیگر دینی خدمات پر تنخواہ کا حکم سوال۔ ایک شخص نے تنخواہ کے جواز پر آیت(اِنَّمَا الصَّدَقٰت…)میں عاملین زکوٰۃ کے مصرف ِ صدقہ ہونے سے استدلال کرکے یوں کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عامل کو صدقہ کے مال سے تنخواہ دو‘‘ دوسرے شخص نے کہا یہ خط کشیدہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا جھوٹا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ خط کشیدہ قول پر قرآن مجید میں کوئی دلیل موجود ہے؟ (2) نیز اس کے قائل نے یہ بھی کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی دینی امورپر اجرت کے جواز کا فتویٰ ہے دوسرے شخص نے کہا کہ یہ بھی جھوٹ ہے متاخرین احناف سے جواز کا فتویٰ ہے۔ ان دونوں میں سے کس نے صحیح کہا ہے ؟ (حافظ محمد بابر) (16جنوری 2004ء) جواب۔ عامل (یعنی زکاۃ لانے والے) کو تحصیل زکوٰۃ کے سلسلہ میں جو کچھ ملتا ہے ، اس کا نام ’’حق الخدمت‘‘ ہے ، تنخواہ نہیں۔ تنخواہ تو ماہانہ وظیفے کا نام ہے جس کی مستقل حیثیت ہے جب کہ عامل کی کمائی ایک وقتی چیز ہے جو محض کام کا عوض ہے۔ (2) امام ابوحنیفہ دینی امور پر اُجرت کے قائل نہیں تھے جب کہ متاخرین حنفیہ کا فتویٰ جواز کا ہے۔ مالِ زکوٰۃ سے اپنے لیے دینی کتب خریدنا سوال۔میں ایک دینی مدرسہ میں زیر تعلیم ہوں۔ میرا بھائی کام کرتا ہے، اس کے مال کی زکوٰۃ اور گھر والوں کی زکوٰۃ سے کیا میں کتابیں خرید سکتا ہوں؟ اگر میں اس سے کتب خرید سکتا ہوں تو کیا اس سے کسی ایسے شخص کو بھی کتاب لے کر دے سکتا ہوں جس پر زکوٰۃ نہیں لگتی؟ اگر میں نہیں خرید سکتا تو کیا ایسے شخص کو جو کسی جامعہ میں استاذ ہو اس کو کتاب خرید کر (زکوٰۃ کے مال سے ) دے سکتا ہوں؟(سائل) (12 مارچ 2004ء)