کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 309
نہیں۔‘‘ تو یہ حدیث ضعیف ہے۔ لہٰذا اس کا اصل سے یا احادیث صحیحہ سے معارضہ کرنا جائز نہیں۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی فرمان ہے کہ:’’ جس شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہوتوقیامت کے دن اس کے لیے آگ کی بڑی بڑی تختیاں تیار کی جائیں گی، جن سے اس کے پہلو اور اس کے ماتھے اور اس کی پشت کو داغا جائے گا۔‘‘ 2۔ کئی ایک آثارِ صحابہ رضی اللہ عنھم میں بھی اس امر کی تصریح موجود ہے۔چنانچہ ابن ابی شیبہ اور بیہقی میں شعیب بن یسار کے طریق سے ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ کو چٹھی لکھی کہ ’’مسلمان عورتیں اپنے زیورات کی زکوٰۃ دیں۔‘‘ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ یہ روایت مرسل ہے۔ شعیب بن یسار نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ حسن بصری نے کہا ہے کہ ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ خلفاء میں سے کوئی زیورات میں زکوٰۃ کا قائل ہو۔ جب کہ طبرانی اور بیہقی میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے زیورات کی زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ ’’ جب وہ دو سو درہموں کو پہنچ جائیں تو ان میں زکوٰۃ ہے۔‘‘ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت کیا ہے کہ وہ اپنے خازن سالم کو لکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کے زیورات کی زکوٰۃ ہر سال ادا کریں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے بھی ایسے ہی منقول ہے۔ ’’تلخیص‘‘ میں ہے کہ ابن المنذر اور بیہقی نے یہ بات ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنھما سے نقل کی ہے۔ 3۔ اور جہاں تک قیاس کا تعلق ہے تو انھوں نے زیورات کو ٹکڑیوں وغیرہ پر قیاس کیاہے۔ اس جامع وصف کی بناء پر کہ یہ سب نقدی ہے۔ 4۔ اور لغوی وضع کے اعتبار سے لفظ رقّہ اور لفظ ’’اُوقِیہ‘‘ جو صحیح حدیث میں وارد ہے۔ سونے کی جملہ اقسام کو شامل ہے خواہ وہ ٹکڑیوں میں ہو، یا زیورات کی شکل میں۔ نتیجہ: جولوگ وجوبِ زکوٰۃ کے قائل ہیں ان کی بیان کردہ توضیحات میں سے یہ بھی ہے کہ کئی ایک صحابہ رضی اللہ عنھم نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے جب کہ عدمِ وجوب کی حدیث صرف جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ کسی روایت میں راویوں کا کثیر تعداد میں ہو نا ترجیح کی ایک صورت ہے۔ نیز وجوب ِ زکوٰۃ والی روایات عدمِ وجوب کی حدیث سے قوی تر ہیں۔ اور اصول معروف ہے کہ وجوب، اباحت( جواز) پر مقدم ہوتا ہے تاکہ احتیاطاً آدمی ذمہ داری سے فارغ ہو جائے ۔ پھر صریح واضح نصوص میں اصل سونے اور چاندی میں وجوبِ زکوٰۃ کاذکر درحقیقت امر کی دلیل ہے کہ زیورات بھی اس کی جزء ہیں اور جو لوگ عدمِ وجوب کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وجوب کی احادیث کا تعلق اس زمانہ سے ہے جب عورتوں پر سونا حرام تھا اور جب سونا پہننا ان کے لیے مباح ہو گیا تو زکوٰۃ بھی ساقط ہو گئی۔ لیکن صحیح اور تحقیقی بات یہ ہے کہ سابقہ نصوص کی بناء پر زیورات میں زکوٰۃ واجب ہے۔ (وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ) جملہ تفاصیل کے لیے ملاحظہ ہو:تفسیر اضواء البیان:2/398 تا 408۔ [1] ۔ فتاویٰ اہل حدیث،ج:2،ص: 527