کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 301
کیا زمین کا کرایہ دینے والا بھی عشر ادا کرے گا؟ سوال۔ٹھیکیدار زمین کا کرایہ بھی ادا کرتا ہے اور حکومت کے واجبات بھی ادا کرتا ہے اور فصل کا خرچ بھی ادا کرتا ہے ۔ کیا اُسے عشر دینا ہو گا۔ نیز گنے کی فصل سے عشر کا مسئلہ بھی بالتفصیل بتائیں۔ (اساتذہ جامعہ خادم القرآن الحدیث، جھوک دادو) (20 /اگست 2004ء) جواب۔ ٹھیکیدار زمین کا ٹھیکہ نکال کر عشر دے، جب کہ حکومت کے واجبات دو طرح کے ہیں۔ مالی معاملہ اور نہری معاملہ۔ مالی نکال کر باقی ماندہ غلے سے عشر ادا کرے اور نہری معاملہ نہ نکالے بلکہ نہری زمین کو کنوئیں کے حکم میں سمجھنا چاہیے یعنی اُس میں سے عشر کی بجائے نصف عشر یعنی بیسواں حصہ ادا کرے۔ فصل کا خرچ بھی دو طرح کا ہے: ایک وہ جو فصل کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے ، جیسے بجائی کاخرچہ اور کھاد وغیرہ بھی بالتبع اس میں داخل ہے اس کو نہ نکالے، دوسرا وہ خرچہ ہے جو مزدور کی مزدوری تصور ہوتا ہے اس کو کاٹ لے۔ گنے کا عشر گڑ کے حساب سے ادا کرنا ہوگا اور اگر زمین میں کھڑا ہی فروخت کردیا جائے تو پھر بھی گڑ کا اندازہ کر لیا جائے۔ بیس من سے ایک من کی ادائیگی کرنا ہو گی، یعنی اس کی قیمت لگا کر حساب بے باق کردیا جائے۔ البتہ اگر گنا مویشیوں کا چارا بن جائے تو پھر اس میں کچھ بھی واجب نہیں۔ مختلف اجناس پر عشر کی ادائیگی سوال۔ علی کے پاس ایک مربع اراضی ہے جس پر بیک وقت مختلف قسم کے اجناس کاشت کیے گئے تھے۔ جب تمام فصل اٹھالی گئی تو کل 30من ہوئی۔ جس میں کچھ گندم ، کچھ چنے، کچھ کپاس اور کچھ دالیں تھیں۔ تمام اجناس کی قیمتیں بھی مارکیٹ میں یکساں نہیں تھیں۔ کیا تمام اجناس میں سے عشر نکالنا ہو گا یا کسی ایک جنس میں سے ایک من بطورِ عشر دے دینا کافی رہے گا۔ (زمین چاہی تھی) (سائل: احسان الحق، یاروخیل، میانوالی۔حالیہ سکونت لاہور) جواب۔ ایک موسم کی تمام جنسوں کو ملا کر عشر ادا کرنا چاہیے لیکن نسبت ادائیگی ہر جنس سے علیحدہ علیحدہ اس کے اپنے حساب سے ہوگی۔ دس ایکٹر کپاس پر کتنا عشر ہو گا؟ سوال۔ایک آدمی دس ایکڑ کپاس بوتا ہے ہر ایک ایکڑ پر دو ہزار روپے خرچ آتا ہے اور کل آمدن 20من ہوتی ہے ، کیا اب اس پر عشر ہوگا اور اس پر کوئی قرض بھی نہیں؟(سائل: خلیل الرحمن بصری) (9 اگست 2002ء) جواب۔ واضح ہو کہ فصل پر دو طرح کا خرچ آتا ہے ایک وہ ہے جو زمیندار کے لیے ضروری ہے جیسے بیل، ٹریکٹر یا لوہار اور ترکھان کی مزدوری۔ یہ اشیاء چونکہ کھیتی کے لوازمات میں داخل ہیں۔ لہٰذا عشر دینے کے وقت ان کی اجرت نہ کاٹی