کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 292
کیا ظالمانہ ٹیکسوں سے بچنے کے لیے رشوت دی جا سکتی ہے ؟ سوال۔بعض لوگ کہتے ہیں حکومت زکوٰۃ کے علاوہ کسی قسم کا ٹیکس لینے کی مجاز نہیں اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ تمام ٹیکس عوام پر ظلم و جبر ہیں۔اگر محکمہ ٹیکس کے افراد کی ’’مٹھی گرم‘‘ کرکے ان ٹیکسوں سے بچا جا سکے تو کیا یہ جائز ہے؟ (سائل) (16جنوری 2004ء) جواب۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس طریقے سے ظالمانہ چٹی سے بچنے کا جواز ہے۔ گھر،پلاٹ، دکان وغیرہ کی زکاۃ کے مسائل رہائشی پلاٹ کی نیت اگر تجارت کی ہوجائے تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ سوال۔ایک پلاٹ رہائش کے لیے خریدا گیا لیکن بعد میں رہائش نہیں ہوئی تو تجارت کی بنیاد پر رکھ لیا گیا۔ کیااس پر زکوٰۃ ہو گی یا نہیں۔ اگر ہو گی تو کب سالانہ یا فروخت کرنے پر ؟ اگر سالانہ ہو تو پہلی قیمت خرید پر یا موجود قیمت پر ؟ جب کہ ابھی پلاٹ فروخت کرنا مقصود نہیں ہے۔ یعنی فروخت نہیں ہوا۔(ڈاکٹر عبدالغفور۔ سانگڑھ) (3مارچ2000ء) جواب۔ مذکورہ پلاٹ کی جب سے آپ نے تجارت کی نیت کی ہے۔ اُس وقت سے لے کر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ زکوٰۃ ہر سال درمیانی قیمت کے حساب سے ادا کردینی چاہیے۔ پلاٹ فوری فروخت کرنا مقصود ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اعتبار صرف نیت کا ہے۔ ماہانہ کرایہ مکان سے حاصل شدہ رقم کا نصابِ زکوٰۃ سوال۔ مجھے ہر ماہ کرایہ3000 ہزار روپے ملتا ہے اور اس میں سے کچھ نہ کچھ بچ جاتا ہے اور میری آمدنی کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ ہے۔ اس رقم پر میں زکوٰۃ کیسے دوں نیز یہ کہ کس رقم کو پورا سال بناؤں، اس طرح تو جنوری، فروری، مارچ وغیرہ ہر ماہ میری رقم کا سال بنے گا۔ قرآن حدیث کی رُو سے جواب عنایت فرمایے گا۔ (خلیل الرحمن محمدی پلازہ سرکلر روڈ ،راجن پور) (16/ اگست،1991ء) جواب۔ جو رقم آپ کے خرچ سے بچ جائے اور سال بھر جمع رہے اور نصابِ زکوٰۃ یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تب اس میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ ، واجب ہے ورنہ نہیں اور اضافی رقم ساتھ ملاتے جائیں۔ ہَلُمَّ جَرًّا کرایہ ٔ مکان میں زکوٰۃ واجب ہونے کی صورت کیا ہے ؟ سوال۔ میرے ایک عزیز جو ریٹائر آرمی آفیسر ہیں۔ مندرجہ ذیل امور میں ذہنی خلفشار کا شکار ہیں۔ براہِ کرم قرآن اور حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔