کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 287
کے بعد سے لے کر نمازِ عید الفطر تک صدقہ فطر ادا کیا جائے تاکہ غریب لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں ، جب کہ جہاد کے نام پر لیا جانے والا صدقہ اتنی جلدی راتوں رات تو نہیں جا سکتا۔ اور ویسے بھی صدقہ غریبوں کے لیے خاص کیا گیا ہے۔ یہ واضح کریں کہ واقعی صدقہ فطر جہاد کے لیے دیا جا سکتا ہے ۔ اگرچہ ان تک نہ ہی پہنچ سکے۔ (سائل: حاجی محمد اصغر الکافی،راجن پور) (19مارچ 1999ء) جواب۔ مقامی فقراء ومساکین کا صدقہ الفطر میں اصل استحقاق ہے۔ ہر صورت ان کوترجیح ہونی چاہیے۔ بلاشبہ اس کی ادائیگی چاند نظر آنے کے بعد ہونی چاہیے۔ اگرچہ دو تین روز پہلے دینے کا بھی جواز ہے۔ہر کارِ خیر میں جہاد کے نام پر لقمۂ غریب چھیننا بہر صورت اچھی بات نہیں ہے۔ اصل فطرانہ کی مقدار و قیمت کیا ہے؟ سوال۔حدیث کے مطابق اصل فطرانہ کی مقدار و قیمت کیا ہے؟ جواب۔عام طور پر اہل علم نے صدقۃ الفطر کی مقدار دو سیر دس چھٹانک تین تولے چار ماشے بیان کی ہے۔ اجناس کے اعتبار سے قیمت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس کی کوئی حد بندی نہیں۔ [1] ۔ صحیح البخاری،بَابٌ:صَدَقَۃُ الفِطْرِ عَلَی الحُرِّ وَالمَمْلُوکِ ،رقم:1511،1512 [2] ۔ صحیح البخاری، بَابُ صَاعٍ مِنْ زَبِیبٍ،رقم:1508 [3] ۔ صحیح البخاری،بَابُ الصَّدَقَۃِ قَبْلَ العِیدِ،رقم:1509 [4] ۔ صحیح البخاری،بَابُ الصَّدَقَۃِ قَبْلَ العِیدِ،رقم:1510