کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 286
صدقہ فطر کو عید سے چندروز قبل تقسیم کرنا؟ سوال۔کیا یہ جائز ہے کہ صدقہ فطر شریعت کی طرف سے مقرر کردہ وقت سے پہلے ہفتہ وار چھٹی کے دن تقسیم کردیاجائے کیونکہ اس دن رضا کارانہ کام کرنے والے افراد زیادہ تعداد میں مل سکتے ہیں، جو کسی دوسرے وقت دستیاب نہیں ہوتے؟(مغربی مسلمانوں کے روزمرہ مسائل) جواب۔ صدقہ فطر کا اصل مقصد یہ ہے کہ عید کے دن غریبوں کو مانگنے کی ضرورت نہ رہے، لہٰذا یہ صدقہ ان تک اس انداز سے پہنچنا چاہئے کہ یہ مقصد حاصل ہوجائے۔ اسے نمازِ عید سے موخر کرنا جائز نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ وہ نمازِ عید کے لئے نکلنے سے پہلے ضرور ادا کردیاجائے اور فرمایا: ”جس نے اسے نماز سے پہلے ادا کیا تو یہ مقبول صدقہ ہے، اور جس نے نمازِ (عید) کے بعد ادا کیا، تووہ صدقوں میں سے ایک (عام) صدقہ ہے۔‘‘[1] اس کی ادائیگی نمازِ عید سے متصل پہلے یعنی فجر کی نماز اور عید کی نما زکے درمیان بھی ہوسکتی ہے بلکہ عید کی رات کو بھی ہوسکتی ہے۔ اسے عید سے ایک دو دن پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہی عام فقہاء کی رائے ہے۔ بعض علماء کے قول کے مطابق آدھا مہینہ پہلے بلکہ مہینے (رمضان) کے شروع میں بھی درست ہے۔ میرے خیال میں اس امر کا تعلق صدقہ فطر کے شرعی مقصد سے ہے اور وہ مقصد ہے عیدکے دن حاجت مندوں کو مانگنے کی ضرورت نہ رہنے دینا۔ چونکہ عید سے پہلے ادا کرنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے، اس لئے اس معاملے میں گنجائش ہے۔ (وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ ) جو شخص مکمل صدقہ فطر ادا نہ کر سکتا ہو…؟ سوال۔جو شخص غربت کی وجہ سے ایک صاع صدقہ فطر نہ دے سکتا ہو، وہ کس قدر صدقہ فطر ادا کرے؟ نصف صاع یا بالکل ادا نہ کرے؟ (سائل) (4 جولائی 2003ء) جواب۔ لوگوں کو چاہیے کہ غریب آدمی کو صدقہ دیں پھر اس سے وہ اپنا صدقہ الفطر ادا کرے کیونکہ صدقہ الفطر واجب ہے۔ حدیث میں لفظ ’’فرض‘‘ استعمال ہوا ہے۔ صاحب’’مرعاۃ المصابیح‘‘ کی رائے کے مطابق اگر پورا صاع ادا نہ کر سکتا ہو تو نصف صاع بھی کافی ہو سکتاہے ؟ جہاد کے نام پر صدقہ فطر سوال۔آج کل جہاد کے نام پر صدقہ فطر لیا جا رہا ہے حالانکہ احادیث میں واضح طور پر آیا ہے کہ عید کا چاند نظر آنے [1] ۔ صحیح البخاری مع فتح الباری،ج:3،ص:357