کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 279
بعد بھی اعتکاف کیا ہے۔ حدیث میں ہے: (ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُہُ مِنْ بَعْدِہِ ) (بخاری مع فتح الباری،ج:4،ص:271) [1] جب کہ ازواج مطہرات کے بارے میں یہ بات مسلم ہے کہ ان کے لیے کسی بھی دوسرے شخص سے آپ کے بعد نکاح کرنا حرام تھا۔ قرآن میں ہے: {وَ لَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْم بَعْدِہٖٓ اَبَدًا} (الاحزاب:53) لامحالہ وہ اکیلی ہی اعتکاف بیٹھتی تھیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ مسجد میں اعتکاف کی صورت ہو۔ عورت کو مکمل تحفظ ہونا چاہیے اوراگر دورانِ اعتکاف عورت کو حیض شروع ہو جائے تو اعتکاف چھوڑ دے۔اس حالت میں نماز روزہ جیسے اہم ارکان ساقط ہو جاتے ہیں تو اعتکاف کا ساقط ہونا معمولی بات ہے۔ (4) اعتکاف رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا۔ آپ نے فرمایا: (أَوْفِ بِنَذْرِکَ۔)[2] … ’’یعنی اپنی نذر پوری کر۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نذر اس وقت پوری کی تھی جب آپ سن آٹھ ہجری ماہ ذوالقعدہ میں حنین سے واپسی پر جعرانہ کے مقام پر تشریف فرما تھے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ غیر رمضان میں بھی اعتکاف ہو سکتا ہے۔ (5) معتکف کے لیے شرائط یہ ہیں کہ وہ مسلمان ہو اور اگر وہ بچہ ہو تو ممیز ہو۔ عورت حیض اور نفاس سے پاک ہو۔[3] یاد رہے استحاضہ کا خون اعتکاف سے مانع نہیں۔ اس حالت میں عورت شرعاً طاہرہ ہے۔ نماز، روزہ وغیرہ ادا کرے گی اور خاوند کے لیے مجامعت بھی جائز ہے۔ (وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ) [4] موسم سرما میں ’’معتکف ‘‘ کا دھوپ کے لیے مسجد کے لیے صحن میں بیٹھنا سوال۔کیا اعتکاف والا سردی کے موسم میں مسجد کے صحن یعنی دھوپ میں بیٹھ کر عبادت کرسکتا ہے؟ (سائل)(9 جون 2006ء)