کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 275
(سائل)(9 جون 2006ء) جواب۔ بلا معقول وجہ درست نہیں۔ (بحالت اعتکاف جائز و ناجائز امور) کیا معتکف ووٹ ڈالنے کے لیے بحالتِ اعتکاف باہر جا سکتا ہے؟ سوال۔ملکی سطح پر عنقریب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے یوم موعود 3 فروری 1997ء 24 رمضان 1417ھ ایام اعتکاف میں واقع ہے۔ کیا معتکف ووٹ ڈالنے کے لیے بحالتِ اعتکاف باہر جا سکتا ہے۔ (سائل: عبد الرحمن۔ لاہور) ( 24 جنوری 1997ء) جواب۔ اعتکاف عام حالات میں بلاشبہ ایک سنت مؤکدہ ہے عبادت ہے جو قربِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ شریعت اسلامیہ میں اس کے کچھ آداب اور حدود و قیود ہیں۔ جن کے التزام سے تکمیلی و تحسینی پہلو تک رسائی ممکن ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: فرمایا: ( السُّنَّۃُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ: أَنْ لَا یَعُودَ مَرِیضًا، وَلَا یَشْہَدَ جَنَازَۃً، وَلَا یَمَسَّ امْرَأَۃً، وَلَا یُبَاشِرَہَا، وَلَا یَخْرُجَ لِحَاجَۃٍ، إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْہُ )[1] ”اعتکاف بیٹھنے والے کے لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ بیمار کی عیادت نہ کرے۔ نہ جنازہ میں شریک ہو۔ نہ عورت کو چھوئے۔ نہ اس سے مباشرت کرے اور کسی ضروری امر کے بغیر جائے اعتکاف سے نہ نکلے۔‘‘ اور’’صحیح بخاری‘‘میں ہے: (وَکَانَ لاَ یَدْخُلُ البَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃٍ إِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا ۔) [2] اور’’صحیح مسلم‘‘میں ہے۔: (ا إِلَّا لِحَاجَۃِ الْإِنْسَانِ ) [3] اس کی تفسیر امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے پیشاب اور پاخانہ منقول ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مالا بد منہ سے مقصود وہ امورِ ضروریہ اضطرار یہ ہیں جن میں انسانی مرضی کو عمل دخل کم ہو اور جہاں تک معتکف کا کسی امید وار کے لیے ووٹ ڈالنے کا تعلق ہے سو اس بارے میں عرض ہے، بلاشبہ اچھے امید وار کو ووٹ ڈالنا گویا کہ اپنے کو نیکی میں شریکِ کار بنانا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ دین پسندوں کی ہر صورت حمایت کی