کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 271
”عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے پس میں آپ کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیتی اور جب آپ صبح کی نماز پڑھتے تو اس میں داخل ہو جاتے۔‘‘ (ابوجابر عبداللہ دامانوی۔ 614/36، کیماڑی کراچی :7،کوڈ:5630)(الاعتصام 18 مئی 1990ء) رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کے آغاز کا صحیح وقت کون سا ہے ؟ (از حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ ) ماہنامہ’’دعوت اہل حدیث‘‘ اشاعت رمضان المبارک 1431ھ اگست 2010ء) میں محترم جناب ڈاکٹر ابوجابر دامانوی کا مقالہ بہ عنوان ’’اعتکاف کب شروع کرنا چاہیے‘‘ شائع ہوا اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعتکاف کا آغاز رمضان کی اکیسویں رات سے ہے۔ پھر جو اہل علم بیسیویں کی صبح کے بعد سے اعتکاف کے قائل ہیں ان کے تعاقب کی ناکام سعی فرمائی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے الفاظ: (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَّعْتَکِفَ صَلَّی الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِیْ مُعْتَکَفِہٖ ) کو مختصر کہہ کر جان چھڑائی ہے۔ حالاں کہ یہ الفاظ موضوع ہیں۔ کیوں کہ ارادہ فعل سے پہلے ہوتا ہے نہ کہ بعد میں۔ اگر یہ صبح اکیسویں رات کی صبح قرار دی جائے تو واقعہ کے خلاف ہے۔ کیوں کہ عمل تو رات کو شروع ہو چکا ہے اب ارادہ کا چہ معنی دارد۔ فتاویٰ ثنائیہ جلد اوّل،ص:649میں مولانا شرف الدین دھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے استدلال کیا ہے کہ اعتکاف کا آغاز بیسویں کی صبح کو ہونا چاہیے۔ اور موصوف نے جس مفصل حدیث کی طرف احالہ کیا ہے اس میں مجرد صبح کا ذکر ہے۔ جو موضوع پر نص نہیں بلکہ احتمال غالب ہے کہ یہ بیسویں کی صبح ہو خیمے گاڑنے کی تیاری بھی اس بات کی متقاضی ہے پھر ازواجِ مطہرات کے فعل کو ناپسندکرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کا ارادہ بھی ترک کردیا یہ بھی اسی امر کی دلیل ہے کہ یہ بیسیویں کی صبح ہے۔ ہاں البتہ ’’مسند ابوعوانہ‘‘ کے حوالہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت نقل کی ہے: ( کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یَعْتَکِفُ فِیْ کُلِّ شَھْرِ رَمَضَانَ فَاِذَا صَلَّی الْغَدَاۃَ جَلَسَ فِی مَکَانِہِ الَّذِیْ اِعتَکَفَ بِلَیْلٍ) مضمون نگار کے موقف کی موید ہے لیکن یہ روایت سخت ضعیف ناقابلِ اعتبار ہے۔ اس میں مصنف کا شیخ العطاری احمد بن عبد الجبار کے بارے میں ذہبی نے ’’میزان‘‘ میں کہا ہے:(ضَعَّفُہ غَیْرُ وَاحِدٍ) ’’اس کو کئی ایک نے ضعیف کہا [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ اعْتِکَافِ المُسْتَحَاضَۃِ،رقم:309 [2] ۔ فتح الباری:4/276