کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 265
تعجب ہے علامہ وحید الزمان جیسی فاضل شخصیت سے آخری دورِ حیات میں تقلیدی جمود سے آزاد ہونے کے باوجود وہ بلا استناد مسلک کے کس طرح قائل ہو گئے۔ (ثُمَّ اعْتَکَفَ اَزْوَاجُہُ مِنْ بَعْدِہٖ ) کی تشریح یہ کرنا کہ ’’ پھر اعتکاف کیا حضرت کی بیبیوں نے یعنی اپنے گھروں میں ‘‘سراسرنصِ حدیث سے زیادتی ہے جس کا کوئی اصل نہیں۔ دراصل اس کی بناء محض بعض فقہاء کے مذہب پر ہے جس کا کوئی اصل نہیں۔ صاحب ’’المرعاۃ‘‘ اس کی تفسیر میں رقمطراز ہیں: (اَیْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہٖ اِحیَائً لِسُنَّتِہٖ وَ اِبْقَائً لِطَرِیْقَتِہٖ ) (3/310) یعنی ازواجِ مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اعتکاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقہ کو زندہ اور باقی رکھنے کے لیے کیا ہے۔ اب ہر فرد غوروفکر کرسکتا ہے کہ اعتکاف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقہ کار کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جملہ امور کاتعلق مسجد سے ہے نہ کہ گھر سے۔ لہٰذا ازواجِ مطہرات کے فعل کو گھر پر محمول کرنا سراسر باطل ہے۔ کیا ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اعتکاف بیٹھنے کا عزم مسجد میں کیا تھا۔ یا گھر میں؟’’صحیح بخاری‘‘وغیرہ کی احادیث واقعاتی طور پر اس امر پر شاہد ہیں کہ اس سارے قصے کا تعلق مسجد سے ہے۔ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل پر نکیر فرمائی؟ ہر گز نہیں۔ سو یہی روایت عورت کے لیے مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کے جواز کی واضح دلیل ہے۔ ”فتح الباری‘‘ میں ہے: ( أَنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا اعْتَکَفَتْ فِی الْمَسْجِدِ اسْتُحِبَّ لَہَا أَنْ تَجْعَلَ لَہَا مَا یَسْتُرُہَا وَیُشْتَرَطُ أَنْ تَکُونَ إِقَامَتُہَا فِی مَوْضِعٍ لَا یُضَیِّقُ عَلَی الْمُصَلِّینَ) (4/277) البتہ اس سال کسی دوسرے سبب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف ترک کردیا تھا جس کا متنازعہ فیہ مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جن لوگوں نے عورت کے مسجد میں اعتکاف کے لیے خاوند کے وجود کی شرط لگائی ہے۔ یہ بھی کمزور مسلک ہے۔ اس لیے کہ جب یہ امر مسلّمہ ہے کہ ازواجِ مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اعتکاف کیا ہے اور قرآن میں ان کے بارے میں یہ حکم بھی موجود ہے: (وَ لَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖٓ اَبَدًا ) (الاحزاب: 53) ”اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔‘‘ تو اس سے معلوم ہوا عورت اکیلی بھی بلاوجودِ خاوند اعتکاف کر سکتی ہے۔ یہ بھی یاد رہے عہدِ نبوت میں کئی ایک صحابیات مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہائش پذیر تھیں۔ ملاحظہ ہو’’صحیح بخاری‘‘وغیرہ اس سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ عورت کا قیام مسجد میں ممکن ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ عورت پردہ ہے ۔ بلاشبہ وہ