کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 260
”یعنی حذیفہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہا کیا میں تجھے تعجب والی بات نہ بتاؤں، کچھ لوگ تیرے اور اشعری کے گھر کے درمیان یعنی مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہیں جواباً عبد اللہ نے کہا ممکن ہے ان کافعل درست ہو(روکنے میں) تجھ سے غلطی سرزد ہوئی ہو۔‘‘ پھر علامہ موصوف رقمطراز ہیں: (فَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لَمْ یَسْتَدِلَّ عَلَی ذَلِکَ بِحَدِیثٍ عَنْ النَّبِیِّ - صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - وَعَلَی أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ یُخَالِفُہُ وَیَجُوزُ الِاعْتِکَافُ فِی کُلِّ مَسْجِدٍ، وَلَوْ کَانَ ثَمَّ حَدِیثٌ عَنْ النَّبِیِّ - صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - مَا خَالَفَہُ، وَأَیْضًا الشَّکُّ الْوَاقِعُ فِی الْحَدِیثِ مِمَّا یُضْعِفُ الِاحْتِجَاجُ أَحَدَ شِقَّیْہِ) یعنی ’’اس سے معلوم ہوا کہ حذیفہ کا استدلال حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی نہیں تھا۔ اور اسی بناء پر بھی کہ عبد اللہ ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اور ہر مسجد میں اعتکاف کے جواز کے قائل ہیں اور اگر کوئی مرفوع حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے موجود ہوتی تو عبداللہ مخالفت نہ کرتے۔ اور اسی طرح حدیث میں واقع شک بھی ایک طرف استدلال کو کمزور کرتا ہے۔‘‘ نیز حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم محدث نے ’’فتح الباری‘‘(ج:4،ص:272) میں حذیفہ کا قول نقل کیا ہے کہ اعتکاف تین مساجد سے مخصوص ہے لیکن بطورِ استدلال یہ روایت نقل نہیں کی حالانکہ مقام کا تقاضا تھا اس کو بیان کیا جاتا ایسے موقع پر مستدل کی موجودگی کے باوجود ذکر نہ کرنا۔ محدثین کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا بالخصوص جب کہ امیر المومنین فی الحدیث بخاری نے اپنی ’’ صحیح ‘‘ میں بایں الفاظ تبویب قائم کی ہو۔ ( بَابُ الِاعْتِکَافِ فِی العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِکَافِ فِی المَسَاجِدِ کُلِّہَا ۔ لِقَوْلِہِ تَعَالَی { وَلاَ تُبَاشِرُوہُنَّ وَأَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی المَسَاجِدِ، تِلْکَ حُدُودُ اللّٰهِ فَلاَ تَقْرَبُوہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ آیَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ) (البقرۃ:187) یہ امر تو مزید اہتمام کا متقاضی تھا کہ روایت ہذا کو مقامِ بحث میں ذکر کیا جاتا اِذْ لَیْسَ فَلَیْسَ۔ بنا بریں اس روایت سے قرآن کے عموم {وَأَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی المَسَاجِدِ } کی تخصیص کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جامع مسجد میں اعتکاف بیٹھنا مسنون عمل ہے؟ سوال۔جامع مسجد میں اعتکاف پر بیٹھنا مسنون عمل ہے۔ آیا جامع مسجدسے مراد وہ مسجد ہے جس میں باقاعدہ جمعہ ہوتا ہو تو ایسی مسجد جس میں جمعہ نہ ہو کیا اس میں اعتکاف ہو سکتا ہے۔(سائل) (۱16مارچ 2001ء) جواب۔ جامع اس مسجد کو کہا جاتا ہے جس میں جمعہ ہوتا ہو امام بخاری اس بات کے قائل ہیں کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہو [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا جَامَعَ فِی رَمَضَانَ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَیْئٌ، فَتُصُدِّقَ عَلَیْہِ فَلْیُکَفِّرْ،رقم:1936