کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 251
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان دونوں حدیثوں کی سندیں سخت ضعیف ہیں،اس وجہ سے شواہد بننے کے قابل نہیں۔ لہٰذا مذکورہ حدیث ضعیف ہے۔ تنبیہ: ’’ابن السنی‘‘کے محقق بشیر محمد عیون نے ’’معاذ بن زہرہ‘‘کی حدیث کی تخریج میں مرسل کہنے کے بعد کہا ہے: ’’مگر شواہد ہیں، جن کی بناء پر حدیث قوی ہوجاتی ہے۔ دیکھئے :ارواء الغلیل(نمبر:919) اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ نے ’’ارواء ‘‘میں شواہد کی بناء پر اس حدیث کو قوی کہا ہے حالانکہ انھوں نے اس حدیث کو بھی ضعیف کہا ہے۔ (شکریہ از مفتی صاحب) ( 5اپریل 2002ء) سوال۔ حالیہ جلد(54) کے شمارہ نمبر5کے صفحہ نمبر10پر دعائے افطار(اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ)کو ’’مشکوٰۃ بتحقیق الالبانی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘(1/63) کے حوالے سے قوی قرار(ذکر) فرمایا۔ یعنی شواہد کی بناء پر (الاعتصام جلد54،شمارہ10 مجریہ یکم فروری 2002ء) مگر آپ کے شاگرد رشید حافظ عبدالرؤف سندھو صاحب نے اپنی تالیف’’القول المقبول فی تخریج و تعلیق صلوٰۃ الرسول‘‘(ص:767) میں مذکورہ بالا حدیث کے شواہد نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ حدیث مذکور ضعیف ہی ہے۔ شواہد بھی ایسے ہیں کہ روایت قوی نہیں بن سکتی۔ آپ مزید واضح فرمائیں۔ (آپ کا مخلص محمد صدیق، ایبٹ آباد) (14 جون 2002ء) جواب۔ واقعی یہ حدیث ضعیف ہے۔ الاعتصام میں عزیزم حافظ عبدالرؤف حفظہ اللہ سے منقول ایک ’’تعاقب‘‘ بھی شائع ہو چکا ہے جس کی بندہ نے تحسین و تائید کی ہے۔ افطاری کی دعا’ ذَہَبَ الظَّمَأُ…الخ‘ افطاری سے پہلے پڑھی جائے یا بعد میں؟ سوال۔افطاری کی دعا :( ذَہَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ …الحدیث) جس کو اہل علم نے حسن کہا ہے۔ یہ دعا کس وقت پڑھی جائے گی؟ یعنی معانی پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افطاری کے بعد پڑھی جائے۔ مگر عموماً کہا جاتا ہے کہ یہ دعا افطاری سے پہلے پڑھی جائے۔ صحیح صورت سے آگاہ فرمائیں۔ شکریہ (آپ کا مخلص محمد صدیق، ایبٹ آباد) (14 جون 2002ء) جواب۔ ہاں ظاہر یہی ہے کہ یہ دعا افطاری کے بعد پڑھی جائے، پھر دعائیہ کلمات بھی اس امر کی واضح دلیل ہے۔ کیا غروبِ آفتاب کے بعد افطار میں احتیاطاً کچھ تاخیر کی جاسکتی ہے؟ سوال۔سحر وافطار کے مختلف کیلنڈروں میں ایک دو منٹ کا فرق پایا جاتا ہے۔ اگر غروب آفتاب کا ’’صحیح ترین وقت‘‘ معلوم ہو تو عین وقت پر روزہ افطار کرلیا جائے یا غروبِ آفتاب کے بعد چند منٹ ’’احتیاط‘‘ کی جائے۔ ایک دو منٹ کی ’’احتیاط‘‘ کیا وہم کے مترادف نہیں ہے؟ (والسلام عبد الحق، سنت نگر، لاہور) (16 نومبر2007ء) [1] ۔ المشکاۃ المصابیح للالبانی)1/63( الفصل الثانی، رقم: 1994