کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 243
گیارہ محرم میں اختیار ہے۔ یعنی زید کے نزدیک روزہ ایک ہے دو نہیں۔ کیا حدیث کے الفاظ یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں دس محرم کے ساتھ ایک اور روزہ رکھوں گا یا پھر صرف دوسرے روزے کا ذکر کیا تھا؟ (عزیز الرحمن اسلام آباد) (30اگست 1996ء) جواب۔ مسئلہ ہذا میں اہل علم کا سخت اختلاف ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ مکی زندگی اور مدنی زندگی کے بیشتر حصہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف دسویں محرم کا روزہ رکھتے تھے۔ بعد ازاں یہود کی مخالفت پر کمر بستہ ہوئے تو فرمایا : آئندہ سال اگر زندگی نے ساتھ دیا تو نویں محرم کا روزہ رکھوں گا لیکن محرم کی عملی تکمیل سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ یہاں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ دسویں کا روزہ نویں تاریخ کی طرف منتقل سمجھا جائے۔ دوسرا یہ کہ نویں تاریخ کو دسویں کے ساتھ ملا کر دو روزے رکھے جائیں۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ اس امر کی وضاحت سے قبل آپ کا انتقال ہو گیا۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ دو روزے رکھے جائیں۔ اس بناء پر عاشوراء کے روزے کی تین صورتیں ہوئیں، (1) صرف دسویں کا روزہ رکھاجائے۔ (2) دسویں کے ساتھ نویں کو ملایا جائے۔ (3) نویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے۔ میرے خیال میں دسویں کے روزے کو کلیۃً منسوخ قرار دینا درست فعل نہیں کیوں کہ بنیادی طور پر مقصود تو یہود کی مخالفت ہے سو وہ نویں یا گیارہویں کا روزہ ساتھ ملانے سے حاصل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس کی تائید ’’مسند احمد‘‘ کی روایت سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاشورا کا روزہ رکھو اور ایک روزہ اس سے پہلے یا بعد رکھ کر یہود کی مخالفت بھی کرو۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( وَہَذَا کَانَ فِی آخِرِ الْأَمْرِ ) یعنی ’’یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم ہے۔‘‘ نیز فرماتے ہیں: (بَلْ تَأَکُّدُ اسْتِحْبَابِہٖ بَاقٍ وَلَا سِیَّمَا مَعَ اسْتِمْرَارِ الِاہْتِمَامِ بِہِ حَتَّی فِی عَامِ وَفَاتِہِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ یَقُولُ لَئِنْ عِشْتُ لَأَ ُصْومَنَّ التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَلِتَرْغِیْبِہِ فِی صَوْمِہِ وَأَنَّہُ یُکَفِّرُ سَنَۃً وَأَیُّ تَأْکِیدٍ أَبْلَغُ مِنْ ہَذَا ) [1] امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب احمد رحمۃ اللہ علیہ ،اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر کئی ایک اہل علم اس بات کے قائل ہیں: (یُسْتَحَبُّ صَوْمُ التَّاسِعِ وَالْعَاشِرِ جَمِیعًا ) [2] [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ قَوْلِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ و سلم مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ البَاء َۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ …الخ،رقم: 5066، صحیح مسلم،بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّکَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُہُ إِلَیْہِ…الخ،رقم: 1400