کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 240
(یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَاء َۃَ، فَلْیَتَزَوَّجْ، فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَاء ٌ) [1] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے نوجوانوں کے گروہ جو کوئی تم میں سے طاقت رکھتا ہو اُسے چاہیے کہ نکاح کرلے کیونکہ نکاح کرنا نظر نیچی رکھنے کا اور ستر کی حفاظت(بدکاری سے بچنے) کا بہترین ذریعہ ہے۔‘‘ اور جو طاقت نہ رکھے پس اس کو روزے رکھنے چاہئیں۔ کیونکہ روزہ رکھنا (گویا) اس کے لیے خصی کرنا ہے۔‘‘ یعنی جس طرح خصی کرنے سے شہوت جاتی رہتی ہے اسی طرح روزہ رکھنے سے بھی کمی آجاتی ہے۔‘‘ (2) شرعی اصطلاح میں لونڈیوں کا اطلاق غالباً کفارکی ان عورتوں پر ہوتا ہے جو دورانِ لڑائی مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں۔ آج کے دور میں منظم جہاد کے فقدان کی بناء پر یہ شئے مفقود ہے۔ دن کو کھانے پینے کے بعد نفلی روزہ کی نیت کرنا: سوال۔کیا نفلی روزہ دن میں کسی بھی وقت رکھا جا سکتا ہے تو کیا اس کے لیے یہ شرط ہے کہ اس نے صبح(سحری) سے کوئی چیز نہ کھائی ہو نہ پانی کا گھونٹ نہ کوئی اور چھوٹی موٹی چیز کھائی ہو۔ یہاں ایک آدمی نے کہا کہ دن میں نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے یہ شرط ہے کہ اس نے سحری سے لے کر اس وقت تک(جس سے روزہ رکھ رہا ہے) کچھ نہ کھایا پیا ہو۔ جب کہ میں نے اُسے کہا کہ یہ شرط نہیں ہے۔ میں نے اُسے بخاری و مسلم کی حدیث پیش کی جس میں حضرت ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کی صبح انصار کی بستیوں کی طرف پیغام بھجوایا کہ جس شخص نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا تو وہ اپنا بقیہ دن مکمل کرلے۔ اب جنھوں نے روزہ سحری کے وقت رکھ لیا ہے۔ وہ تو صحیح ہوا۔ اور جنھوں نے نہیں رکھا۔ ان میں یہ احتمال ہے کہ انھوں نے کچھ چیز کھالی ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ملنے تک کچھ نہ کھایا پیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ آیا دن میں نفلی روزہ رکھنے کی یہ شرط ہے کہ اس نے سحری سے کوئی چیز نہ کھائی ہو۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں اور اگر اس نے کوئی چیز کھالی ہے تو اس کا روزہ نہیں۔ بَیِّنُوْا تُوجرُوْا۔ (تلمیذکم اعجاز احمد خطیب جامع مسجد اہل حدیث کدھر تحصیل بھلوال ضلع گجرات) ( 23 اکتوبر1992ء) جواب۔ روزہ کی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ انسان طلوع صبح صادق سے لے کر غروب شمس تک مفطرات سے رک جائے۔ اس تعریف کا اطلاق عام ہے روزہ چاہے فرضی ہو۔ یا نفلی، البتہ نفلی روزے کے لیے شریعت میں اتنی [1] ۔ صحیح البخاری، کتاب التفسیر،بَابُ قَوْلِہِ: {أَیَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا …الخ [2] ۔ متفق علیہ،صحیح البخاری،بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صَوْمٌ،رقم:1952، صحیح مسلم،بَابُ قَضَاء ِ الصِّیَامِ عَنِ الْمَیِّتِ،رقم:1147 [3] ۔ صحیح مسلم،بَابُ قَضَاء ِ الصِّیَامِ عَنِ الْمَیِّتِ،رقم:1149