کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 238
1۔ مستحاضہ: ماہواری کی عادت والی، خون کی پہچان کرسکتی ہو یا نہ کر سکتی ہو ۔اس کو معروف عادت کی طرف لوٹایا جائے گا چنانچہ ’’صحیح مسلم‘‘ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے۔ ( اُمْکُثِیْ قَدْرَ مَا کَانَتْ تَحْبِسُکِ حَیْضَتُکِ) [1] ”ایام حیض کے بعد انتظار کرو۔‘‘ 2۔ وہ عورت جو ابتداء ہی میں خون کی پہچان کرلے، وہ پہچان کے مطابق عمل کرے گی حدیث میں ہے: (اِذَا کَانَ دَمُ الْحَیْضَۃِ فَاِنَّہٗ اَسْوَدُ یُعْرَفُ) [2] ”جب حیض کا خون آئے تو وہ سیاہ، بدبودار ہوتا ہے اور پہچانا جاتا ہے۔‘‘ 3۔ اور وہ عورت جس کی عادت اور پہچان دونوں مفقود ہوں، اس کے ایام ماہواری غالب عورتوں کی عادت کی بناء پر چھ سات دن شمار ہوں گے۔ دلیل اس کی حمنہ کی حدیث ہے جو ’’سنن ابی داؤد‘‘ وغیرہ میں موجود ہے۔[3] مرقومہ عورت کا تعلق چونکہ تیسری قسم سے ہے، لہٰذا یہ عورت ہر ماہ چھ یا سات دن نماز چھوڑ کر غسل کے بعد نماز پڑھنی شروع کردیا کرے، اور جن دنوں میں نماز چھوڑے گی ان میں روزہ بھی نہیں رکھے گی کیونکہ یہ دن حیض کے شمار ہوں گے۔ ایک روزہ چھوڑنے کے بدلے ایک وقت کا کھانا کھلانا ہے یا کہ دو وقت کا ؟ سوال۔(وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ)میں آیا ہر روزہ کے بدلہ ایک وقت کا کھانا کھلانا ہے یا کہ دو وقت کا ؟ دلیل؟ کیا کسی مسکین کو اکٹھی رقم بھی ان کھانوں کے بدلے میں دی جا سکتی ہے؟ (26جولائی 1996ء) جواب۔یومیہ فدیے کا اندازہ کل ایک مُدّ غلہ یعنی چوتھائی صاع ہے۔ اور صاع تقریباً پونے تین سیر ہوتا ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (مُدٌّ بِمُدِّ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کُلِّ یَوْمٍ أَفْطَرَہُ، وَبِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ. وَقَالَ أَبُو حَنِیفَۃَ: کَفَّارَۃُ کُلِّ یَوْمٍ صَاعُ تَمْرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعِ بُرٍّ) [4] [1] ۔ صحیح البخاری ،بَابُ مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالعَمَلَ بِہِ فِی الصَّوْمِ،رقم:1903 [2] ۔ صحیح البخاری کتاب الصیام،بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِیَّۃً،رقم: 1901 [3] ۔ سنن الترمذی،بَابُ مَا جَاء َ فِی الرُّخْصَۃِ فِی الإِفْطَارِ لِلْحُبْلَی وَالمُرْضِعِ،رقم:715 [4] ۔ تحفۃ الاحوذی:4/402