کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 235
وَشَرَابَہُ) [1] اُمتِ مرحومہ پر اﷲ رب العزت کا عظیم احسان ہے کہ ایک ایک نیکی میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ جب کہ بدی میں تعدد کے بجائے اسے اپنی جگہ پررکھ کر توبہ وانابت کی دعوتِ عام دی تا کہ گنہگار سیاہ کار بند ے اس کے آغوش رحمت میں داخل ہو کر بہشت کے وارث بن سکیں۔ اسی بناء پر ترغیب دی گئی ہے کہ ( مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ القَدْرِ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ) [2] اور جب اس کی مرضی ہو تو حقوق العباد کو بھی معاف فرما کر ظالم و مظلوم اور قاتل و مقتول دونوں کو خوش کر دیتا ہے۔ (لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ہُمْ یُسْئَلُوْنَ) (الانبیاء:23) (اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا) (الزمر:53) لہٰذا یہ اعتقاد رکھنا کہ رمضان المبارک میں نیکی کی طرح برائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا شرعی نصوص کے منافی نظریہ ہے۔ اﷲ رب العزت جملہ مسلمانوں کو برکاتِ رمضان سے مستفیدہونے کی توفیق بخشے۔ (آمین) دودھ پلانے والی عورت یا حاملہ عورت روزہ نہ رکھے ؟ سوال۔کیا دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت روزے نہ رکھے تو کیا وہ ٹھیک ہے یا کہ نہیں؟ (ام طلحہ۔جہلم) (12 فروری 1999ء) جواب۔ حاملہ اور مرضعہ تکلیف کی وجہ سے روزے فاطر(چھوڑنا) کر سکتی ہیں۔ جامع ترمذی میں حدیث ہے: (إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَی وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ، وَشَطْرَ الصَّلاَۃِ، وَعَنِ الحَامِلِ أَوِ الْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّیَامَ) [3] علامہ مبارکپوری رقمطراز ہیں: (وَلَا خِلَافَ فِی جَوَازِ الْإِفْطَارِ لِلْحَامِلِ وَالْمُرْضِعَۃِ إِذَا خَافَتِ الْمُرْضِعَۃُ عَلَی الرَّضِیعِ وَالْحَامِلُ عَلَی الْجَنِینِ) [4] [1] ۔ سنن الترمذی بَابُ مَا جَاء َ فِی الفِطْرِ وَالأَضْحَی مَتَی یَکُونُ؟، رقم: 802 [2] ۔ صحیح مسلم،بَابُ ذِکْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِہِ وَمَا مَعَہُ،رقم:2937