کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 233
(إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ ) [1] اور جہاں تک برائی کا تعلق ہے سو اس کے ارتکاب سے رمضان غیر رمضان میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے: ( فَإِنْ ہُوَ ہَمَّ بِہَا فَعَمِلَہَا کَتَبَہَا اللّٰهُ لَہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً ) [2] ”یعنی بندہ اگر گناہ کا قصد کر کے برائی کر گزرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے لیے صرف ایک برائی درج کرتا ہے ۔‘‘ اور قرآنِ کریم میں ہے:(مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا وَ مَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَہَا وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْن) (الانعام: 16) ” جو کوئی (اﷲ کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو بیس دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔‘‘ اور الاعرج کی روایت میں ہے: (فَاکْتُبُوہَا لَہُ بِمِثْلِہَا) [3] اور صحیح مسلم میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: (فَجَزَاؤُہُ سَیِّئَۃٌ مِثْلُہَا أَوْ أَغْفِرُ ) [4] اور’’صحیح مسلم‘‘ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے اخیر میں الفاظ یوں ہیں: (أَوْ یَمْحُوْہَا)مفہوم اس کا یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم یا توبہ و استغفار یا اچھا عمل کرنے سے برائی کو مٹا دیتا ہے لیکن پہلا معنی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کے قریب تر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ( وَیُسْتَفَادُ مِنَ التَّأْکِیدِ بِقَوْلِہِ وَاحِدَۃً أَنَّ السَّیِّئَۃَ لَا تُضَاعَفُ کَمَا تُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ وَہُوَ عَلَی وَفْقِ قَوْلِہِ تَعَالَی فَلَا یُجْزَی إِلَّا مِثْلَہَا) [5] ”یعنی سَیّئۃ کے ساتھ واحدۃ کی تاکید سے یہ بات مستفاد ہے کہ برائی میں اضافہ نہیں ہوتا جس طرح کہ نیکی میں کئی گناہ اضافہ ہوتا ہے اور یہ اﷲ کے فرمان {فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَہَا} کے عین مطابق ہے۔‘‘ ابن عبد السّلام نے اپنی ’’امالی‘‘ میں کہا :تاکید کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں اس شخص کا وہم رفع کرنا مقصود ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ انسان جب برائی کرتا ہے تو برا عمل اس پر لکھ دیا جاتا ہے اور قصدِ برائی کا بدی میں مزید اضافہ کا موجب ہو گا۔