کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 231
جواب۔ جہاںتک ہو سکے مطلع کا واضح فرق نہ پڑے۔ وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔ اس مضمون کی ایک چٹھی بہاولنگر سے جناب محمد عبد اللہ ناطق صاحب کی طرف سے بھی آئی ہے۔ اس جواب کو اس سوال کاجواب بھی سمجھا جائے۔ چاند نکلنے کی شہادت کیسے شخص کی قبول کی جائے گی ؟ سوال۔رؤیت ہلال کے بارے نجومی کی بات کا اعتبارنہیں۔ تقریباً دس سال پہلے ماہرین فلکیات کے مطابق ابھی نیا چاند پیدا نہیں ہواتھا، لہٰذا اس کا نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ ایک ملک میں چند لوگوں نے چاند دیکھنے کی گواہی دی۔ دنیا کے اکثر ممالک میں تیسرے دن چاند نظر آیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر جدید سائنسی ماہرین کے مطابق نیا چاند نظر آنا ممکن نہ ہو اور چند لوگ چاند دیکھنے کی گواہی دے دیں تو اس صورت میں گواہی معتبر ہے یا نہیں؟ اگر لوگوں کی ایسی بڑی تعداد چاند دیکھ لے کہ ان کا جھوٹ پر جمع ہوناممکن نہ ہو تو اور بات ہے۔ مذکورہ بالا حالات میں صرف چند لوگوں کی گواہی کا اعتبار کیا جائے گا یا نہیں؟ (شیخ عبداللہ،سنت نگر، لاہور) (17مئی2002ء) جواب۔ شریعت کا پابند اور متقی آدمی چاند نکلنے کی شہادت دے دے تو وہ شرعاً قابلِ اعتبار ہوگی ۔ ایک اعرابی کی گواہی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ ’’سنن ابی داؤد‘‘ ، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ وغیرہ… رؤیت ہلال کمیٹی سے اختلاف کرکے علیحدہ کمیٹی تشکیل دینا: سوال۔ عرصہ دراز سے پشاور کی تین اہل حدیث مساجد 1 مرکزی جامع مسجد اہل حدیث پشاور صدر 2جامع مسجد اہل حدیث شاہ اسماعیل شہید کوٹلہ فیلبانان پشاور شہر 3 جامع مسجد اہل حدیث اندرون سرکی گیٹ پشاور شہر ۔ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق عیدیں مناتی آرہی ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کے دیگر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد کے کئی اضلاع مثلاً مانسہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، نوشہرہ، مردان، مالا کنڈ ایجنسی وغیرہ کے رہائشی عامۃ المسلمین مناتے ہیں۔ جب کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پشاور شہر کے گرد ونواح میں چند اہل حدیث علماء مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان اور فیصلے کے خلاف ایک یا دو دن پہلے ہی عید منالیتے ہیں۔ مزید برآں ایک اخباری خبر کے مطابق ان علمائے کرام نے ضلع پشاور کی سطح پر اہل حدیث کی ایک مقامی رؤیت ہلال کمیٹی تشکیل دی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کمیٹی کی شرعی حیثیت ازروئے قرآن وسنت بیان فرمائیں۔ کیوں کہ متذکرہ بالا مساجد اہل حدیث کے زیر انتظام دو عید گاہوں میں نماز عید ادا کی جاتی ہے جن میں اندازاً آٹھ سے دس ہزار افراد نمازِ عید ادا کرتے ہیں۔ مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر آپ سے استدعا ہے کہ جلد از جلد جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں، شکریہ۔ (سائل)(18 جنوری 2008ء) [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم:2697