کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 227
احتراز ضروری ہے۔ اکیلے آدمی کا گھر میں ایصالِ ثواب کی نیت سے قرآن پڑھنا سوال۔ اگر مروّجہ طریقے سے قرآنی خوانی نہ کی بجائے بلکہ کوئی شخص اپنے گھر میں اکیلا ہی قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنا چاہے یا روزانہ چند سورتیں پڑھ کر ایصالِ ثواب کا معمول بنا لے تو اس کا یہ عمل شرعی اعتبار سے کیسا ہے؟(سائل ، جمیل احمد ، کراچی) (18 ستمبر 1998ء) جواب۔قرآن خوانی کی صورت میں ایصالِ ثواب کا طریقہ کتاب و سنت سے ثابت نہیں بلکہ میت کے لیے دعا کرنی چاہیے جس کی تاکید قرآن میں بایں الفاظ ہے: (رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ)(الحشر:10) کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میت کے لیے قرآن خوانی ثابت ہے؟ سوال۔ میں عرصہ 2 سال قبل اہل حدیث ہوا تھا۔ اللہ کی توفیق سے سیدھے راستے پر گامزن ہوں۔ لیکن چند مسائل میرے اہل حدیث ہونے کے بعد پیدا ہوئے اور ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ تمام مسائل کو حل فرمائے۔آمین۔ مروّجہ قرآن خوانی کے بارے میں تفصیل سے فرمائیں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح قرآن ختم کرنا ثابت ہے اور لوگ چندہ اکٹھا کرکے مٹھائی وغیرہ منگوا کر ختم پڑھتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ (سائل محمد خالد نیو عاقل کینٹ) (19اگست 1996ء) جواب۔ مروّجہ قرآن خوانی کا کوئی ثبوت نہیں۔ لہٰذا یہ بدعت ہے۔ حدیث میں ہے : (مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ ) [1] ”یعنی جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔‘‘ میت کے لیے قرآن خوانی کا کیا حکم ہے؟ سوال۔ کیا جو لوگ قرآن مجید کے پارے گھروں میں تقسیم کردیتے ہیں اور پڑھنے کے بدلے میں پڑھنے والوں کو چاول کی ایک پلیٹ یا چنے وغیرہ تقسیم کردیتے ہیں۔ یہ پڑھنا اور ثواب ان کے نام کرنا جائز ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتا دیجیے کہ یہ پڑھنااور ثواب کسی کے نام کرنا کس طرح اور کیسے کرنا جائز ہے۔ اس کا طریقہ ذرا تفصیل سے بتا دیجیے یہ بھی سنا ہے کہ دنیا سے کوچ کرجانے والے انسان کو قرآن کا پڑھا پڑھایا وغیرہ پہنچتا ہے۔ اور اس کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے ؟ (بابر حسین ڈاکخانہ سندھو والہ ضلع سیالکوٹ) (8 جنوری 1993ء) [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم:2697