کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 221
جواب۔ کسی بھی چیز کو میت کی طرف سے صدقہ کیا جا سکتا ہے ۔ عمومی صدقے سے یہ لوگ کھاپی سکتے ہیں۔ لیکن واجب صدقے سے ان کا کھانا پینا درست نہیں۔ مثلاً میت نے کوئی نذر مانی تھی یا اس کے ذمے کوئی قرض یا کفارہ تھا۔ اولیاءِ کرام کے ایصالِ ثواب کے لیے کچھ اللہ کی راہ میں دینا درست ہے یا نہیں؟ سوال۔اولیاءِ کرام کے ایصالِ ثواب کے لیے کچھ اللہ کی راہ میں دینا درست ہے یا نہیں؟ (سائل: محمد علی شاہ، لاہور) (31مئی 2002ء) جواب۔ ایصالِ ثواب کے لیے عمومی صدقہ کرنا فی الجملہ ثابت ہے اور مخصوص شخصیات کی طرف سے صدقہ خیرات سے مقصود عوام کا ان سے تقرب حاصل کرنا ہوتا ہے جو درست عمل نہیں۔ اولیاء اللہ کے لقب کا اطلاق کن لوگوں پر ہو سکتا ہے ؟ سوال۔شیخ عبد القادر جیلانی، شیخ علی ہجویری ' اور دیگر مشہور ترین بزرگوں (جنھیں ہمارے ہاں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے) کے متعلق ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی کے پیروکار کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں شرکیہ عبارات پائی جاتی ہیں، لہٰذا جب تک ان بزرگوں کے کافر ہونے کا اظہار نہ کیا جائے ہمارا ایمان بے کار ہے۔ اس بارے میں صحیح بات کیا ہے؟ (شیخ عبد المجید، توحید روڈ، ناصر پارک، لاہور) (17 فروری 2006ء) جواب۔ جن لوگوں کی زندگی کتاب وسنت کے مطابق گزری ہے ان پر اولیاء اللہ کا اطلاق ہو سکتا ہے، اگر کسی سے کوئی لغزش ہوئی ہے تو رب کریم سے ان کے لیے معافی کی درخواست کرنی چاہیے اور شرکیہ کلمات سے براء ت کا اظہار کیا جائے، نیز ہر ایک پر کفر وشرک کے فتوے لگانے سے اجتناب ضروری ہے۔ واللّٰہ یتولی السرائر چہلم وغیرہ کا کھانا حرام ہے یا مکروہ ؟ سوال۔ہم سوم چہلم وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ بعض اوقات ان رسومات پر تقسیم شدہ کھانا گھر میں آتا ہے۔ کیا اسے پھینک دیں یا کھا سکتے ہیں ؟ اس کا کھانا حرام ہے یا مکروہ ؟ اس صورت میں کہ ایسی محافل کی حوصلہ افزائی کا کسی قسم کا شائبہ تک موجود نہ ہو۔(سائل: محمد علی شاہ، لاہور) (31مئی 2002ء) جواب۔ ایسا کھانا جانوروں کو کھلا دیا جائے ۔ اس کا خود کھانا کراہت سے خالی نہیں۔ وفات کے تیسرے دن تیجہ، جمعرات کو ختم رسم چہلم کے انعقاد کا شرعی حکم: سوال۔ہمارے علاقے میں یہ رسم عام ہے کہ اگر کوئی فوت ہو جائے تو تیسرے دن قل اور اس کے بعد ہر جمعرات کو ختم پڑھایا جاتا ہے اور آخر میں رسم چہلم ادا کرکے سال تک مرنے والا بھلا دیا جاتا ہے۔ آپ بتائیں ایسی محفل میں جانا کیسا ہے؟ اور یہ رسم حدیث میں بھی موجود ہے یا نہیں؟ (محمد یوسف۔ضلع ایبٹ آباد) (9جولائی 1999) [1] ۔ مسند احمد،رقم:7905 [2] ۔ نیل الاوطار،ج:۴،ص:104 [3] ۔ سنن الترمذی،رقم:3479 [4] ۔ صحیح البخاری، باب غزاۃ اوس،رقم: 4323