کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 217
تیسرے دن ظہر کی نماز کے بعد دعا کی جاتی ہے ، اس میں دیگر اقرباء و اعزہ کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ بعد از خصوصی دعا سوگ ختم کردیا جاتا ہے۔ کیا ایسی دعا جو خاص طور پر ہو، تیسرے دن ہو ، ظہر کی نماز کے بعد ہو ، اس میں شرکت ِ اقرباء لازمی ہو، کا تعین قرآن و سنت سے ثابت ہے؟(سائل محمد بلال ، محمد عیسیٰ کمبوہ) (28 ستمبر 2001ء) جواب۔ سوگ کا تعلق صرف عورتوں سے ہے جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے اور باقی اعزہ و اقارب کا سوگ صرف تین دن ہے لیکن مردوں کے لیے ترکِ زینت کی کوئی پابندی نہیں اظہارِ افسوس اور تعزیت کے لیے بھی کوئی وقت مقرر نہیں کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ تین دن کے لیے اہل میت کے ہاں جمع ہو کر بیٹھے رہنے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں، بلکہ حضرت جریر بن عبد اللہ فرماتے ہیں، اہل میت کے ہاں اجتماع کو ہم بین(نوحہ) شمار کرتے تھے( جو شرعاً ممنوع ہے) میت کے لیے دعا کسی جگہ اور کسی وقت بھی ہو سکتی ہے اس کے لیے کوئی تعین نہیں۔ سو ان میں جن امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ سب رسومات ہیں ہر صورت اس سے اجتناب ضروری ہے۔ سوگ اور ماتم مردوں او ر عورتوں دونوں کے لیے ہے یا صرف عورتوں کے لیے؟ سوال۔سوگ کے بارے میں حافظ عبدالمنان نور پوری صاحب( رحمۃ اللہ علیہ ) نے اپنی کتاب’’احکام و مسائل‘‘ کے صفحہ 268۔270 پر لکھا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ( از راقم) ’’سوگ عورتوں کے لیے ہے( مردوں کے لیے نہیں) ’’یعنی میت کی ورثاء عورتیں( عام عورتیں) میت پر تین دن تک سوگ کر سکتی ہیں جب کہ بیوی اپنے خاوند کی وفات پر عدت کی تکمیل تک سوگ اور ماتم کرے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سوگ صرف عورتوں کے لیے ہے۔ مردوں کے لیے( ورثاء میت کے لیے) تین دن تک یہ نہیں ہے ؟ (سائل) (5 /ستمبر 2003ء) جواب۔ حقیقت یہی ہے کہ سوگ کا تعلق میت کی قریبی عورتوں سے ہے، مردوں کے لیے سوگ نہیں۔ مثلاً بیوی کی وفات کے فوری بعد شوہر نکاح جدید کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ، اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں۔ محترم حافظ صاحب( رحمۃ اللہ علیہ ) نے بالکل درست لکھا ہے۔ فوت شدہ کی تعزیت اور طریقہ دعا سوال۔کسی بھی آدمی کے فوت ہو جانے پر تین دن تک افسوس کے لیے بیٹھا جاتا ہے اگر کوئی آدمی وہاں آکر دعا مانگنے کو کہتا ہے اور ہاتھ اٹھا کر جو دعا مانگی جاتی ہے اس بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ کار بتائیں۔ کیا ہاتھ اٹھا کر دعا جائز ہے یا نہیں؟ (محمد زبیر بھٹی جھبراں) (13 مارچ، 1992ء) جواب۔فوت شدہ آدمی کی پس ماندگان سے تعزیت کرنا مسنون و مستحب ہے لیکن اس امر کے لیے حُقہ لگا کر بیٹھے رہنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بلکہ حدیث جریر بن عبد اللہ میں اہل میت کے ہاں اجتماع کو نوحہ قرار دیا گیا ہے: [1] ۔ صحیح البخاری،بَابُ قَوْلِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: (قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ …الخ،رقم: 7377