کتاب: فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد نمبر3 - صفحہ 210
( اِنِّیْ لَاَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ )[1] اسی طرح یہاں بھی سمجھ لیں۔ فقہاء حنفیہ نے بے شمار نصوص میں مردوں کے عدم سماع کی تصریح کی ہے۔ بطورِ امثلہ چند ایک نمونے ملاحظہ فرمائیں۔ علامہ ابن الہمام ’’فتح القدیر‘‘ کتاب الجنائز میں فرماتے ہیں: ( ہُنَا عِنْدَ أَکْثَرِ مَشَایِخِنَا ہُوَ أَنَّ الْمَیِّتَ لَا یَسْمَعُ عِنْدَہُمْ عَلَی مَا صَرَّحُوا بِہِ فِی کِتَابِ الْأَیْمَانِ فِی بَابِ الْیَمِینِ بِالضَّرْبِ ۔لَوْ حَلَفَ لَا یُکَلِّمُہُ فَکَلَّمَہُ مَیِّتًا لَا یَحْنَثُ ؛ لِأَنَّہَا تَنْعَقِدُ عَلَی مَا یُفْہَمُ، وَالْمَیِّتُ لَیْسَ کَذَلِکَ لِعَدْمِ السَّمَاعِ ) (قَوْلُہُ وَکَذَا الْکَلَامُ) یَعْنِی إذَا حَلَفَ لَا یُکَلِّمُہُ اقْتَصَرَ عَلَی الْحَیَاۃِ، فَلَوْ کَلَّمَہُ بَعْدَ مَوْتِہِ لَا یَحْنَثُ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْہُ الْإِفْہَامُ وَالْمَوْتُ یُنَافِیہِ؛ لِأَنَّہُ لَا یَسْمَعُ فَلَا یَفْہَمُ ) انتھی اور ’’فصول فی علم الاصول‘‘ میں ہے: (لَوْ حَلَفَ لَا یُکَلِّمُ فُلَانًا وَ کَلَّمَہُ بَعْدَ الْمَوْتِ اَوْضَرَبَہُ بَعْدَ الْمَوْتِ لَا یَحْنثُ لِعَدْمِ مَعْنَی الْاِفْہَامِ وَالْاِیْلَامِ) اور اصول الشاشی میں ہے: (مَنْ حَلَفَ لَا یُکَلِّمُ فُلَانًا فَکَلَّمَہُ بَعْدَ الْمَوْتِ لَا یَحْنث لِعَدْمِ الْاِسْمَاعِ ) اور تفسیر ’’جامع البیان‘‘ میں زیر آیت (وَ الْمَوْتٰی یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ)ہے: ( اَی الکُفَّارِ الَّذِیْنَ کَالْمَوْتٰی لَا یَسْمَعُوْنَ) اور تفسیر’’جلالین‘‘ میں ہے: (اَی الْکُفَّارِ شَبَّہَہُمْ بِہِمْ فِیْ عَدْمِ السِّمَاعِ) اور بدر کے مقتولین سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطاب فرمایا تھا اس کا جواب بعض حنفیہ نے یوں دیا ہے: (وَ لَئِنْ ثَبَتَ فَہُوَ مُخْتَصٌّ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَ یَجُوْزُ اَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ لِوَعْظِ الْاِحْیَائِ لَا عَلٰی سَبِیْلِ الْخِطَابِ لِلْمَوْتٰی ) ”یعنی اگر یہ قصہ ثابت ہوجائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہو گا اور یہ بھی جائز ہے کہ مقصود اس سے زندہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا ہو مردوں کے لیے خطاب نہیں۔‘‘ ( فتاویٰ حدیث،ج:5،ص:444) [1] ۔ صحیح البخاری، بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَۃِ عِنْدَ القَبْرِ: اصْبِرِی ،رقم:1252 [2] ۔ صحیح مسلم(7/44) ،بَابُ مَا یُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاء ِ لِأَہْلِہَا،رقم: 974 [3] ۔ صحیح البخاری،بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِہِ ،رقم:4452